The news is by your side.

Advertisement

کابل میں خودکش حملہ ‘ 18 جاں بحق

کابل: شادی کی ایک اعلیٰ سطحی تقریب میں حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا‘ جس کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہیں۔

افغان میڈیا کے مطابق کابل میں جاری اس تقریب کے میزبان بلخ کے گورنر عطا محمد نور کے حامی اس تقریب کے میزبان تھے ‘ جہاں دھماکہ ہوا‘ ابتدائی رپورٹس کے مطابق آٹھ پولیس اہلکار بھی اس حملے میں جاں بحق ہوئے ہیں۔

افغان میں متحارب کسی بھی گروہ نے تاحال اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

کابل پولیس کے ترجمان عبدل باسر مجاہد کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے ہال میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن اسے سیکیورٹی چیک پوائنٹ پر روک لیا گیا جہاں اس نے خود سے نصب بم ایکٹی ویٹ کردیا۔

تقریب میں شریک ہارون متعارف کا کہنا ہے کہ طعام کے بعد ہم ہال سے باہر آنے ہی والے تھے کہ ایک زوردار دھماکہ ہوا ‘ جس کے نتیجے میں شیشے ٹوٹ گئے اور افراتفری کا عالم بن گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے بہت سے پولیس والوں اور شہریوں کو اپنے ہی خون میں غلطاں دیکھا ۔

پولیس اور انٹلی جنس ایجنسی کے اہلکاروں نے کثیر تعداد میں پہنچ کر جائے وقعہ کا کنٹرول سنبھال لیا اور اس جگہ کو عوام کی آمد ورفت کے لیے بند کردیا گیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر شیئر کردہ تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کئی افراد خون میں لت پت کچے فرش پر پڑے تڑپ رہے ہیں اور امدادی کارروائیوں میں مصروف لوگ زخمیوں کو اٹھارہے ہیں۔

یاد رہے کہ عطا محمد نورجو کہ افغانستان کی جماعت اسلامی سے تعلق رکھتے ہیں اور افغان صدر اشرف غنی کے شدید ترین مخالفین میں شامل ہوتے ہیں اور 2019 کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں