The news is by your side.

Advertisement

کوئٹہ: مدرسے میں نماز جمعہ کے دوران دھماکہ، 7 افراد جاں بحق

کوئٹہ: صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں مدرسے میں نماز جمعہ کے دوران دھماکہ ہوا ہے جس میں 7 افراد جاں بحق جبکہ 22 زخمی ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق دھماکہ کوئٹہ کے قریب ایک قصبے کچلاک میں ایک مدرسے میں نماز جمعہ کے دوران ہوا، جب مسجد میں بے شمار نمازی موجود تھے۔

ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکے میں 7 افراد جاں بحق جبکہ 22 زخمی ہوئے ہیں۔ ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر پہنچ کر زخمیوں کو مفتی محمود اسپتال منتقل کیا۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ نہایت زوردار تھا جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

دھماکے کے بعد مزید دھماکہ خیز مواد کی تلاش کے لیے بم ڈسپوزل اسکواڈ (بی ڈی ایس) کو طلب کرلیا گیا، اس دوران علاقے کو عام افراد سے خالی کروالیا گیا۔ بی ڈی ایس ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکہ خیز مواد محراب کے ساتھ ہی نصب کیا گیا تھا۔

واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری جائے وقوع پر پہنچ گئی جس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سیل کردیا۔

سندھ میں سیکیورٹی سخت

کوئٹہ دھماکے کے بعد انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ ڈاکٹر کلیم امام نے صوبے میں سیکیورٹی سخت کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی اقدامات انتہائی چوکنا اور مستعد رکھے جائیں۔

اس سے قبل 6 اگست کو بھی کوئٹہ ٹک ٹک گلی شو مارکیٹ میں دھماکہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور 9 افراد زخمی ہوگئے تھے۔ دھماکے سے ایک دکان تباہ ہوئی جبکہ زخمیوں میں 2 بچے بھی شامل تھے۔

ڈی آئی جی کوئٹہ عبد الرزاق چیمہ کا کہنا تھا کہ دہشت گرد خریدار بن کر آئے اور بارودی مواد دکان میں رکھ گئے، دہشت گردوں نے کوئٹہ کے عوام کو نشانہ بنایا ہے۔

بعد ازاں وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیا لانگو کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کو ہمسایہ دشمن ملک کی پشت پناہی حاصل ہے، دہشت گردی کی لہر گزشتہ 2 دہائیوں سے چل رہی ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ ہمسایہ دشمن ملک دہشت گرد بلوچستان میں بھیج رہا ہے، ہماری سیکیورٹی فورسز ہر وقت چوکنا ہے، دہشت گردی کی جڑ تک پہنچ چکے ہیں جلد خاتمہ کردیا جائے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں