تازہ ترین

کیمو تھراپی کے بجائے کینسر کا نیا طریقہ علاج

برطانیہ میں پھیپھڑوں کے کینسر کے علاج کیلئے نئے طریقہِ علاج پر عمل کیا جارہا ہے جس سے مریض کو اسپتال نہیں جانا پڑتا اور کیموتھراپی کے برعکس اس طریقہِ علاج سے مریض میں کمزوری بھی نہیں ہوتی۔

اس حوالے سے پھیپھڑوں کے کینسر کے ممکنہ ہزاروں مریضوں کو خون کے ٹیسٹ کرانے کی پیشکش کی جارہی ہے جس سے یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ آیا وہ ٹارگٹڈ علاج تک جلد رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ مذکورہ ٹیسٹ علاج میں سہولت اور مدد کے لیے آسانی فراہم کرتا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق کچھ ٹیومرز کا علاج معیاری کیمو تھراپی کے بجائے گولیوں سے کیا جاسکتا ہے جن کے سائیڈ ایفیکٹس بھی کم ہوتے ہیں۔

پھیپھڑوں کے کینسر کی مریض 33 سالہ کیٹ رابنسن اسپتال میں علاج کروانے کے بجائے گھر پر ہی گولیاں لینے میں کامیاب رہیں اور اس طرح انہوں نے اپنی بیٹی کے ساتھ بھی زیادہ وقت گزارا۔

کیٹ کا کہنا ہے کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ ان کے پاس زندہ رہنے کے لیے کم از کم ایک سال ہے لیکن شاید کچھ اور وقت بھی مل جائے۔

وہ ان دو ہزار مریضوں میں شامل ہیں جنہوں نے کینسر کی علامات ظاہر ہونے پر پہلے ہی ٹیسٹ کروا لیا تھا۔

اگلے سال انگلینڈ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے 80 سماجی اداروں میں پھیپھڑوں کے کینسر کے مشتبہ مزید 10ہزار مریضوں کو اس ٹیسٹ کی پیشکش کی جائے گی۔

کیٹ کے کینسر کی علامات سر درد کے ساتھ سامنے آنا شروع ہوئیں جو دور نہیں ہورہا تھا تو ان پھر 2 ہفتوں کے بعد ان کی بہن نے انہیں ڈاکٹر کو دکھانے پر آمادہ کیا۔

کیٹ نے کہا کہ میں نے سوچا کہ یہ درد شقیقہ ہے لیکن میرے ڈاکٹر نے کہا کہ آپ کو فوراً اسپتال جانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میرا فوری طور پر ایم آر آئی اور سی ٹی کیا گیا اور اسپتال میں قدم رکھنے کے 2 گھنٹے کے اندر میں ایک آنکولوجی (کینسر کے ماہر) ڈاکٹر کے سامنے بیٹھی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ان کے دماغ میں 7 ٹیومر پائے گئے جو سر میں درد کا باعث بن رہے تھے لیکن مزید تحقیقات سے پتا چلا کہ ان کا بنیادی کینسر کے پھیپھڑوں میں تھا جہاں 3 ٹیومرز تھے، کینسر کیٹ کے لمف نوڈس اور ان کی کھوپڑی میں بھی پھیل گیا تھا۔

انہیں خون کے ٹیسٹ کی پیشکش کی گئی جسے ’مائع بایوپسی‘بھی کہا جاتا ہے جو ڈی این اے کے ان ٹکڑوں کو تلاش کرتا ہے جو ٹوٹ کر ٹٰیومر کی شکل میں خون میں ہوتے ہیں۔

یہ تغیر اکثر ایسے کم عمر مریضوں میں دیکھا جاتا ہے جو پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا ہوتے ہیں اور کیٹ کی طرح سگریٹ نوشی نہیں کرتے، اس کا مطلب یہ تھا کہ ان کے لیے بہترین علاج بریگیٹینیب نامی ٹارگٹڈ دوائی تھی۔

کیٹ نے کہا کہ وہ مجھے ریڈیو تھراپی اور پھر کیموتھراپی کے لیے تیار کیا جا رہا تھا لیکن اس کے بجائے میں روزانہ اس گولی کے استعمال کے حق میں تھی‘۔ وہ کہتی ہیں کہ متلی کے علاوہ اس کے بہت کم ضمنی اثرات ہوئے ہیں۔

انگلینڈ بھر سے مریضوں کے خون کے ٹیسٹوں کا تجزیہ سوٹن، سرے کے رائل مارسڈن اسپتال کی لیبارٹری میں کیا جائے گا جس کا نتیجہ 14 دنوں میں آئے گا۔

مارسڈن کے کنسلٹنٹ کلینیکل آنکولوجسٹ پروفیسر سنجے پوپٹ کہتے ہیں کہ خون کے ٹیسٹ کا استعمال ایک شاندار خیال ہے اور اس کا مطلب ہے کہ مریضوں کو اپنے کینسر کے صحیح علاج تک تیزی سے رسائی حاصل ہوتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بریگیٹینیب غیر چھوٹے خلیوں کے پھیپھڑوں کے کینسر کے8 ٹارگٹڈ علاجوں میں سے ایک ہے جو پھیپھڑوں کے کینسر کے کم از کم 80 فیصد کیسز کا باعث بنتا ہے۔ یہ تمام ادویات گولیاں ہیں جو مریض گھر بیٹھے لے سکتے ہیں۔

پروفیسر سنجے نے کہا کہ یہ گولیاں انتہائی مؤثر ہیں اور ان کے ضمنی اثرات کا پروفائل بہت اچھا ہے جبکہ اس کے برعکس کیموتھراپی مشکل ہےجو لوگوں کو تھکا دیتی ہے اور متلی اور بالوں کے گرنے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ خون کے ٹیسٹ یا ’مائع بایوپسی‘ کے استعمال سے بچوں میں چھاتی کے کینسر اور دیگر کینسر کا امکان ہوتا ہے۔

’یہ این ایچ ایس کی ایک اہم پیشرفت ہے‘

نیشنل کلینیکل ڈائریکٹر برائے کینسر این ایچ ایس پیٹر جانسن کا کہنا ہےاین ایچ ایس نے دکھا دیا ہے کہ یہ کینسر کی تشخیص اور علاج میں جدت طرازی میں آگے ہے اور یہ پائلٹ مریضوں کو جدید ترین علاج اور علاج فراہم کرنے کے لیے ہمارے عزم کی ایک اور مثال ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے پھیپھڑوں کے کینسر کا سامنا کرنے والے لوگوں کو اپنے پیاروں کے ساتھ زیادہ گزارنے کا موقع بھی ملے گا۔

Comments

- Advertisement -