کس بلڈ گروپ کے لوگوں‌ کو فضائی آلودگی میں‌ ہاٹ اٹیک ہوسکتا ہے؟‌ heart attack
The news is by your side.

Advertisement

فضائی آلودگی سے کس بلڈ گروپ کے لوگوں‌ کو ہارٹ اٹیک ہوسکتا ہے؟

کیلی فورنیا: اگر آپ کا بلڈ گروپ (AB ( positive / negative تو فضائی آلودگی کے دوران آپ کو ہارٹ اٹیک (دل کا دورہ) ہونے کے خدشات بہت حد تک بڑھ جاتے ہیں، یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آئی۔

امریکا کے انٹرماؤنٹ ہارٹ انسٹی ٹیوٹ میں ہونے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ اگر فضائی آلودگی کی شدت 10 مائیکروگرام کیوبک میٹر ہے اور اس دوران A+B positive / negative بلڈ گروپ والا شخص گھر سے نکلے تو یہ اُس کے لیے بہت خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ بینجامن ہورن کا کہنا ہے کہ اگر فضائی آلودگی کی شدت 25 مائیکروگرام کیوبک میٹر ہے تو یہ (او پازیٹیو اور نیگیٹیو) بلڈ گروپ کے لیے بھی بہت زیادہ نقصان دہ ہے۔

مزید پڑھیں: اسٹرابیری کا روزانہ استعمال ہارٹ اٹیک کے خطرے کو بھی کم کرتا ہے

تحقیق کے دوران خون کی تمام اقسام مشاہدہ کیا گیا جس کے مطابق اگر فضائی آلودگی 25 مائیکروگرام کیوبک میٹر تو یہ انتہائی خطرناک حد ہے اگر اس کی سطح کم ہے تو یہ خطرے کا باعث نہیں ہوسکتی۔

مشاہدے کے مطابق کہ جن لوگوں کا بلڈ گروپ او پازیٹیو یا نیگیٹیو ہے ان لوگوں میں فضائی آلودگی کے دوران ہارٹ اٹیک کے خدشات کم پائے گئے۔

محقق ہورن کا کہنا ہے کہ ’جینیاتی مطالعے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ مذکورہ او بلڈ گروپ کے لوگ دیگر تین گروپس (اے، بی اور اے بی پازیٹیو، نیگیٹیو) کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: دل کی بیماری سے خواتین بھی غیر محفوظ، تعداد میں‌ مسلسل اضافہ

اُن کا کہنا ہے کہ ’ لوگوں کو فضائی آلودگی کے دوران گھبرانے کی ضرورت نہیں تاہم انہیں اس دوران گھر سے باہر نکلنے کے لیے بہت احتیاط کی ضرورت ہے‘۔

تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ 25 فیصد مائیکرو کیوبک میٹر کی فضائی آلودگی کے دوران O بلڈ گروپس والے افراد کو بھی عارضہ قلب یا سینے میں درد کی شکایت ہوسکتی ہے ۔

اسے بھی پڑھیں: نمک کا زیادہ استعمال: فالج اور دل کی بیماریوں کا باعث ہے، تحقیق

محقق کا مزید کہنا ہے کہ روزانہ کی ورزش اور بروقت طبی معائنے کی وجہ سے عارضہ قلب سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں