The news is by your side.

Advertisement

برازیل کی کہانی اور پیڈرو ایلورس کیبرال کا کردار

برازیل جنوبی امریکا کا سب سے بڑا ملک ہے جو 32 لاکھ 86 ہزار مربع میل سے زائد رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ پندرھویں صدی عیسوی تک دنیا میں یہ علاقہ کسی قوم اور ریاست کے طور پر شناخت نہیں ہوتا تھا۔ اس ملک کو پرتگالی بحریہ کے ایک افسر نے دریافت کیا تھا۔

پرتگالی بحریہ کے افسر کا نام پیڈرو ایلورس کیبرال ہے جو بھٹک کر یہاں پہنچا تھا اور یوں یہ خطہ زمین دریافت ہوا جسے آج برازیل کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ اُس وقت یہاں جو لوگ آباد تھے ان کے حالات اور تمدن یا طرزِ زندگی معلوم نہیں۔

جب پُرتگالیوں کو اس علاقے اور یہاں کے قدرتی وسائل کا علم ہوا تو انھوں نے اس پر قبضہ کر کے نو آبادی قرار دے دیا۔ اسی لیے اس ملک میں پرتگیزی بھی بولی جاتی ہے۔

یہاں پرتگالی آکر بسے اور پرتگالی حکومت افریقا سے لوگوں کو غلام بنا کر یہاں لے آئی جن سے کھیتی باڑی کا کام لیا جانے لگا۔ یورپ کے دیگر علاقوں سے بھی لوگ یہاں آکر بس گئے تھے۔

انیسویں صدی کے آغاز تک برازیل پر پرتگال کا قبضہ برقرار رہا، لیکن آزادی کی کام یاب تحریک کے نتیجے میں برازیل دنیا کے نقشے پر ایک ملک کی حیثیت سے ابھرا۔

اس ملک میں مسلمان بھی بستے ہیں جن میں عرب دنیا سمیت دیگر اسلامی ممالک کے لوگ اور پاکستانی بھی شامل ہیں۔ یہاں مختلف شہروں میں مساجد بھی ہیں جن میں مسلمان باجماعت نماز ادا کرتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں