The news is by your side.

Advertisement

برازیل نے بھارتی ویکسین خریدنے کا معاہدہ معطل کر دیا

برازیلیا: برازیل نے ’کوویکسین‘ خریدنے کا عمل ملتوی کر دیا، جس سے ’بھارت بایوٹیک‘ کا 324 ملین ڈالر کا سودا معلق ہو گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کرونا ویکسین خریدنے کے معاہدے پر سوالات کھڑے ہونے کی وجہ سے برازیل نے بھارت بایوٹیک کے ساتھ ’کوویکسین‘ کے لیے کیے گئے سودے کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

324 ملین ڈالرز کا یہ معاہدہ 2 کروڑ ڈوزز پر مشتمل تھا، ویکسین Bharat Biotech نے فراہم کرنی تھی، تاہم معاہدے میں بے قاعدگیوں کے الزامات کے بعد یہ صدر جائر بولسینارو کے لیے درد سر بن گیا تھا۔

منگل کو وزارت صحت کے حکام نے بتایا کہ Covaxin کی ڈوزز کے لیے کیے گئے معاہدے میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف عوامی سطح پر احتجاج کی وجہ سے یہ معاہدہ صدر مملکت کے لیے مصیبت بن گیا ہے۔

برازیل میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 5 لاکھ تک پہنچنے پر ملک میں صدر بولسینارو کی مقبولیت گہنا چکی ہے، انھوں نے پیر کو تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انھیں کسی بے ضابطگی کا کوئی پتا نہیں ہے، تاہم کانٹے دار سوالات انھیں چھوڑنے نہیں دے رہے ہیں، اور یہ اگلے برس کے صدارتی ووٹ سے قبل ان کے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔

حکومت نے اگرچہ الزامات پر وضاحت بھی پیش کی ہے، لیکن اس سے لوگوں کا غصہ کم نہیں ہوا، اس کے بعد جب یہ معاملہ برازیل کے سپریم کورٹ میں پہنچ گیا تو برازیلی حکومت نے آخرکار اس سودے کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

برازیلی میڈیا کے مطابق اس معاملے کی جانچ پوری ہو جانے تک کوویکسین کے تعلق سے کی گئی ڈیل معطل رہے گی، تاہم برازیل کے وزیر صحت کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس ڈیل میں کسی طرح کی کوئی گڑ بڑ نہیں ہے۔

ڈیل کے حوالے سے الزام عائد ہو رہے ہیں کہ برازیل کی وزارت صحت پر بھارت بایوٹیک کی ویکسین خریدنے کا دباؤ بنایا گیا تھا، اور اس سودے کا صدر بولسینارو کو بھی علم تھا لیکن اس کے باوجود وہ اسے نہیں روک پائے اور برازیل کو فائزر کی سستی ویکسین کی دستیابی کے باوجود مہنگی کوویکسین خریدنے پر مجبور ہونا پڑا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں