The news is by your side.

Advertisement

شہباز شریف اور حمزہ کیخلاف منی لانڈرنگ کیس میں بڑی پیشرفت

وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں بڑی پیشرفت ہوئی ہے۔

ایف آئی اے نے وزیر اعظم شہباز شریف سمیت دیگر کے خلاف ضمنی چالان تیار کرلیا ہے جو کل عدالت پیش کیا جائے گا۔ ایف آئی اے کے ضمنی چالان میں 3 تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

چالان میں ملزمان کی ولدیت اور مکمل ایڈریس تحریر کیے گئے ہیں۔ چالان میں سلمان شہباز کے شریک ملزم شبر کی وفات کی تصدیق کی گئی ہے۔

ذرائع ایف آئی اے کے مطابق چالان میں تفتیش اور گواہوں کو تبدیل نہیں کیا گیا۔ عدالت نے گزشتہ سماعت پر ایف آئی اے کو ضمنی چالان دینے کا حکم دیا تھا۔

ایف آئی اے کی جانب سے مفرور ملزمان سلمان شہباز، ملک مقصود اور طاہر نقوی کے وارنٹ گرفتاری پر رپورٹ پیش کی گئی تھی۔ اسپیشل کورٹ کے جج اعجاز حسن اعوان نے عملدرآمد رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تفتیشی افسر کی سرزنش کی تھی۔

عدالتی ریمارکس میں کہا گیا تھا کہ رپورٹ کے مطابق ملزمان تو متعلقہ پتے پر موجود ہی نہیں جبکہ ایک سال پہلے ملزمان کو متعلقہ ایڈریس پر نوٹس بھجوانے کی رپورٹ دی گئی، کس بات پر یقین کریں؟ کیوں نہ انویسٹی گیشن افسر کو شوکاز نوٹس جاری کردیا جائے۔

اس کے علاوہ عدالت نے سلمان شہباز کے وارنٹ پر والد کا نام درج نہ ہونے اور وفات پانے والے ملزم کا نام چالان میں شامل کرنے پر ناراضی کا اظہار کیا تھا۔

دوران سماعت شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا کاغذ پیش نہیں کر رہا جو حکومت کے بدلنے کے بعد ریکارڈ پر آیا ہو، تمام ریکارڈ پچھلے دور حکومت کا ہے، دس سال میں کھلنے اور بند ہونے والے کسی اکاؤنٹ کا شہباز شریف سے تعلق نہیں۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ پچھلی حکومت کا شہباز شریف پر مقدمات بنا کر پابند سلاسل رکھنے پر فوکس تھا، قانون کے مطابق کسی کے خلاف دس مقدمات ہوں تو باری باری گرفتاری نہیں کی جائے گی۔

وکیل وزیراعظم نے مز ید دلائل میں کہا تھا کہ ایف آئی اے نے کئی لوگوں کے بیانات ریکارڈ کیے نہ انہیں ملزم بنایا گیا نہ گواہ بنایا گیا، منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت کی توثیق کے لیے شہباز شریف کے وکیل امجد پرویزنے دلائل مکمل کیے، آئندہ سماعت پر ضمانت کی توثیق کے لیے امجد پرویز حمزہ شہباز کی جانب سے دلائل دیں گے۔

عدالت نے سماعت 4 جون تک ملتوی کرتے ایف آئی اے کے وکیل کو چالان کے نقائص دور کرنے کی ہدایت کی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں