The news is by your side.

Advertisement

بریگزٹ ڈیل، تھریسا مے نے مذاکرات کرنے کا بیڑا اٹھالیا

لندن : برطانیہ کی وزیر اعظم تھریسا مے نے بریگزٹ وزیر ڈومنیک راب کو بریگزٹ معاملات سے ایک طرف ہٹاتے ہوئے یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات کرنے کا بیڑہ خود اٹھالیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق یورپی یونین کے ملک برطانیہ کی وزیر اعظم نے یورپی یونین سے علیحدگی کے حوالے مذاکرات خود کرنے کا اعلان کردیا ہے جبکہ وزیر برائے بریگزٹ کو بریگزٹ کے حوالے سے ملک کے داخلی معاملات پر توجہ دینے کی ذمہ دے دی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے نے بریگزٹ مذاکرات خود کرنے کا اعلان ایسے وقت میں کیا ہے جب وفاقی کابینہ میں بیشتر وزراء استعفے دے رہے ہیں اور بریگزٹ ڈیل میں مسلسل تاخیر کے باعث عوام میں بھی بے چینی پائی جارہی ہے۔

خیال رہے کہ اگلے برس یورپی یونین کی رکنیت کو برطانیہ ترک کردے گا، تاہم اب تک یورپی یونین اور برطانوی حکومت کے درمیان کوئی معاہدہ طے نہیں ہوسکا ہے۔

بریگزٹ امور کے وزیر ڈیوڈ ڈیوس نے برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے کے بریگزٹ ڈیل بعد بھی یورپی یونین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے پر عمل پیرا رہنے کے متنازعے فیصلے پر استعفیٰ دے دیا تھا۔ جس کے بعد تھریسا مے نے سخت مؤقف رکھنے والے ڈومنیک راب کو بریگزٹ کی وزارت کا قلمدان سونپ دیا تھا۔

یورپی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے کو بریگزٹ ڈیل کے منصوبے پر اپوزیشن کے ساتھ ساتھ اپنی جماعت کے بیشتر قانون سازوں کی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کیوں کہ وفاقی وزراء یورپی یونین سے واضح طور پر علیحدگی چاہتے ہیں۔

برطانیہ کی لیبر پارٹی کے رکن پارلیمنٹ شیڈو کی جانب سے تھریسا مے پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ’برطانوی وزیر اعظم نے ڈومنیک راب کو بریگزٹ وزیر منتخب ہوتے ہی ایک طرف کردیا گیا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں