The news is by your side.

Advertisement

یورپی یونین سے انخلاء نامنظور، برطانوی عوام بریگزٹ کی مخالفت کردی

لندن : برطانوی شہریوں نے یورپی یونین سے برطانوی انخلاء کے خلاف لندن میں مظاہرے شروع کردئیے، مظاہرین نے وزیر اعظم نے بریگزٹ پر نئے ریفرنڈم کا مطالبہ کردیا۔

تفصیلات کے مطابق برطانیہ کے یورپی یونین سے انخلاء کا معاملہ مزید پیچیدہ ہوتا جارہا ہے گزشتہ روز برطانوی دارالحکومت لندن میں لاکھوں شہریوں نے بریگزٹ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ بریگزٹ کے خلاف مارچ میں شریک مظاہرین نے ہاتھوں نے پلے کارڈ اور یورپی یونین کے جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے۔

خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ برطنایہ کے لبرل ڈیموکریٹ لیڈر وینس کیبل کو بریگزٹ مخالف مارچ کی قیادت کی دعوت دی گئی تھی، جس پر انہوں نے کہا کہ ’اس مارچ میں تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد موجود ہیں‘۔

وینس کیبل کا کہنا تھا کہ مذکورہ احتجاجی مارچ میں تقریباً ساٹھ فیصد برطانوی عوام یورپی یونین سے برطانوی انخلاء کے خلاف ہے۔

مزید پڑھیں : لندن : 7 لاکھ سے زائد افراد نے بریگزٹ کے خلاف پٹیشن پر دستخط کردئیے

یاد رہے کہ دو روز قبل یورپی یونین سے برطانوی انخلاء کے خلاف چالیس لاکھ افراد نے ایک برقی پٹیشن پر دستخط کیے تھے، درخواست میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ آرٹیکل 50 پر عمل درآمد کرتے ہوئے بریگزٹ منسوخ کیا جائے۔

مزید پڑھیں : برطانوی وزیراعظم کا خط، یورپی یونین بریگزٹ میں تاخیر کے لیے راضی

یاد رہے کہ گزشتہ روز برطانوی وزیراعظم تھریسامے کے بریگزٹ ڈیل میں تاخیر سے متعلق خط پر یورپی یونین نے رضامندی ظاہر کردی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ یورپی یونین 22 مئی تک بریگزٹ میں تاخیر پر رضامند ہوگیا ہے، یو ای کے مطابق برطانوی پارلیمنٹ سے ڈیل کی منظوری پر بریگزٹ 22 مئی تک ملتوی کریں گے۔

یورپی یونین کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہنا تھا کہ ڈیل کی عدم منظوری پر 12 اپریل کو بریگزٹ پر عمل درآمد ہوگا۔

برطانوی وزیراعظم نے یورپی یونین کے آرٹیکل پچاس کے تحت اس بلاک سے اپنے اخراج کی طے شدہ مدت میں تیس جون تک کی توسیع کی درخواست کی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں