The news is by your side.

بریگزٹ ڈیل سے امریکا اوربرطانیہ کی تجارت ختم ہوسکتی ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ اور یورپین یونین کے درمیان ہونے والے متوقع بریگزٹ معاہدے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہنا ہے کہ اس سے امریکا اور برطانیہ کی تجارتی ڈیل کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ بادی النظر میں دکھائی دیتا ہے کہ بریگزٹ معاہدہ یوپرین یونین کے لیے تو کئی فواید لیے ہوئے ہے لیکن اس کے بعد شاید برطانیہ ہمارے ساتھ تجارت نہ کرسکے۔

ان کے مطابق معاہدے کی شق نمبر 10 کے تحت برطانیہ کو دنیا بھر کےممالک سے نئے تجارتی معاہدے کرنے ہوں گے ۔

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ فی الحال برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان ہونے والے متوقع معاہدے کا مسودہ سامنے آیا ہے اس کو دیکھ کر لگتا ہے کہ برطانیہ کے ساتھ ہماری تجارت منقطع ہوجائے گی جو کہ یقیناً کوئی اچھی بات نہیں ہے۔

انہوںمزید کہا ہے کہ مجھے امید ہے کہ برطانیہ اور یورپی یونین اس کو دیکھ رہے ہوں گے اور ان کا ہر گز مقصد یہ نہیں ہوگا کہ برطانیہ اور امریکا کے درمیان تجارت منقطع ہوجائے۔

یاد رہے کہ برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے ، بریگزٹ معاہدے کو یورپی یونین سے منظور کرالینے کے بعد اب 11 دسمبر کو برطانوی پارلیمنٹ میں لے کر جارہی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ وہ اس معاہدے پر اراکینِ پارلیمنٹ کی منظور ی حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گی۔ ممبرانِ پارلیمنٹ کو قائل کرنے کے لیے تھریسا ، ووٹنگ سے دو روز قبل لیبر پارٹی کے رہنما جیریمی کاربائن کے ساتھ ایک ٹی وی شو میں مذاکرہ بھی کریں گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تھریسا مے جنہوں نے ممبرانِ پارلیمنٹ کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے دو ہفتے کی ڈیڈ لائن طے کررکھی ہے ان کے لیے امریکی صدر کا یہ بیان کسی دھچکے سے کم نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ دو روز قبل برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان علیحدگی کے لیے تیار کردہ بریگزٹ معاہدے کا مسودہ یورپی یونین کے سربراہی اجلاس میں منظورکرلیا گیا تھا، اسپین نے معاہدے کی مخالفت کی تھی۔یورپی یونین کے سربراہی اجلاس میں اسپین کے آخری لمحات میں کارروائی سے باہر ہونے کے بعد تمام رکن ممالک نے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ لیبر پارٹی، ایل آئی بی ڈیم، ایس این پی، ڈی یو پی اور حکمران جماعت متعدد ایم پیز اس معاہدے کے خلاف ووٹنگ کرنے کےلیے تیار ہیں، لہذا تھریسا مے کو 11 دسمبر کو ایک انتہائی دشوار گزار مرحلہ طے کرنا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں