The news is by your side.

Advertisement

انتہا پسندی کی طرف مائل ہونے والی شمیمہ کو ایک موقع دینا چاہیے، سابق داعشی خاتون

لندن : سابق داعشی خاتون نے کہا ہے کہ ’کم عمری میں انتہا پسندی کی طرف مائل ہونے والی شمیمہ بیگم بھی میری طرح تبدیل ہونا چاہتی ہے، اسے ایک موقع ضرور ملنا چاہیئے۔

تفصیلات کے مطابق شام و عراق میں دہشتگردانہ کارروائیاں کرنے والی تنظیم داعش میں شمولیت اختیار کرنے والی برطانوی لڑکی نے کچھ دن قبل برطانیہ لوٹنے کی خواہش کا اظہارکیا تھا، ابھی تک برطانوی حکام نے انہیں مثبت جواب نہیں دیا تاہم وزیر داخلہ ساجد جاوید نے کہا تھا کہ ’اگر وہ برطانیہ آئیں تو انہیں مقدمے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

داعشی دہشت گردوں سے شادی کرنے والی سابق داعشی خاتون تانیہ جویا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’شمیمہ بیگم بھی میری طرح تبدیل ہونا چاہتی ہے‘۔

مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ کسی کو شمیمہ سے ہمدردی نہیں ہے لیکن تانیہ جویا مذکورہ لڑکی کی مشکلات کے معتلق سب کچھ جاتنی ہیں، سابق داعشی خاتون تانیہ نے کہا کہ 19 سالہ لڑکی حاملہ لڑکی کو اپنے بچے کے ہمراہ برطانیہ لوٹنے کا موقع دینا چاہیے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ تانیہ جویا امریکا سے تعلق رکھنے والے داعش کے سینئر دہشت گرد جون کی اہلیہ تھیں جو اب مکمل طور پرسماجی بحالی کے عمل سے گزرچکی ہیں اوراب اپنے دوسرے شوہر کے ہمراہ خوشحال زندگی گزار رہی ہیں۔

سابق داعشی خاتون کا کہنا تھا کہ شمیمہ کو اس دنیا میں آنے والی اس کی اولاد کی خاطر زندگی گزارنے کا ایک موقع اور دینا چاہیے۔

تانیہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شمیمہ بچی تھی جب اس نے شادی کی اور وہ اب بھی چھوٹی بچی ہے، اگر وہ اپنی غلطی قبول کررہی ہے تو اسے زندگی بدلنے کا موقع دینا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ہم نے اس کی مدد نہیں کی تو دنیا میں آنے والا بچہ پہلے ہی مرجائے گا اور اس کی ذمہ دار سو فیصد شمیمہ ہوگی لیکن انسانیت کی خاطر ہمیں اس بچے کی مدد کرنی چاہیے۔

مزید پڑھیں : داعش میں شمولیت اختیار کرنے والی برطانوی لڑکی ، گھر لوٹنے کی خواہش مند

یاد رہے کہ برطانوی داعشی لڑکی نے بتایا تھا کہ ’میں فروری 2015 اپنی دو سہیلیوں 15 سالہ امیرہ عباسی، اور 16 سالہ خدیجہ سلطانہ کے ہمراہ گھر والوں سے جھوٹ کہہ کر لندن کے گیٹ وک ایئرپورٹ سے ترکی کے دارالحکومت استنبول پہنچی تھی جہاں سے ہم تینوں سہلیاں داعش میں شمولیت کے لیے شام چلی گئی تھیں‘۔

مذکورہ لڑکی کا کہنا تھا کہ ’میں نے درخواست کی  تھی کہ میں 20 سے 25 سالہ انگریزی بولنے والے جوان سے شادی کرنا چاہتی ہوں، جس کے دس دن بعد میری شادی 27 سالہ ڈچ شہری سے کردی گئی جس نے کچھ وقت پہلے ہی اسلام قبول کیا تھا‘۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق خاتون اپنے شوہر کے ہمراہ دو ہفتے قبل ہی داعش کے زیر قبضہ آخری علاقے کو چھوڑ کر شمالی شام کے پناہ گزین کیمپ میں منتقل ہوئی تھی جہاں مزید 39 ہزار افراد موجود ہیں۔

پناہ گزین کیمپ میں مقیم دہشت گرد خاتون نے صحافی کو تبایا کہ وہ حاملہ ہے اور اپنی آنے والی اولاد کی خاطر واپس اپنے گھر برطانیہ  جانا چاہتی ہے۔

یاد رہے کہ داعش کے ساتھ گزارے گئے دنوں میں شمیمہ کے دو بچے پیدا ہوکر ناقص طبی سہولیات اور ناکافی غذا کے سبب موت کے منہ میں جاچکے ہیں، اوراب وہ اپنے تیسرے بچے کی زندگی کے لیےبرطانیہ واپس آنا چاہتی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں