The news is by your side.

ہٹلر کے والدین مجرم قرار، برمنگھم کی عدالت جمعے کو سزا سنائے گی

برمنگھم: بیٹے کا نام ہٹلر  رکھنے پر تنازع کھڑا ہو گیا، انتہا پسند برطانوی جوڑے کو مجرم قرار دے دیا گیا.

تفصیلات کے مطابق برمنگھم کی ایک عدالت میں 22 سالہ ایڈم اور 38 سالہ کلاڈیو  پر نازی گروہ نیشنل ایکشن کا رکن ہونے کے الزام  کے تحت مقدمہ دائر کیا گیا، پولیس نے جوڑے کو نئی طرز کی دہشت گردی کا مرتکب ٹھہرایا ہے.

واضح رہے کہ  نیشنل ایکشن نامی پارٹی ہٹلر کو اپنا لیڈر کہتی ہے، برطانیہ میں  2016 میں اس جماعت پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ 

بچے کی پیدائش کے بعد جوڑے نے ایک تصویر بھی بنوائی، جس میں انھوں نے نازی پارٹی کا پرچم تھام رکھا تھا، جوڑے نے  نازی فوج کے انداز میں‌ سلوٹ‌ بھی کیا.

مزید پڑھیں: ہٹلر کا لباس زیب تن کرنے پر امریکی شہری کو دھمکیاں

ایک تصویر  میں  ایڈم خفیہ نسل پرست اور امیگریشن مخالف گروہ کا مخصوص نقاب اور  لباس پہنے اپنے بیٹے کو اٹھائے کھڑا ہے۔

ان ہی تصاویر میں جوڑے کے قریبی دوست ڈیرن فیلچر کو بھی دیکھا جاسکتا ہے،  جسے ایک سفید انتہاپسند کے طور پر شناخت کیا جاتا ہے.

عدالت میں جوڑے کا ٹرائل سات ہفتے جاری رہا، پولیس کی طرف سے  پیش کئے گئے شواہد میں ایڈم کے گھر سے ملنے والا مواد بھی شامل تھا، جس میں بم بنانے کا طریقہ درج تھا، اس کے علاوہ اس جوڑے کے گھر سے نازی لٹریچر  اور کلہاڑا بھی برآمد ہوا۔

گروہ کے ارکان نے چیٹ گروپ میں ہٹلر کی تعریف کی اور یہودیوں کے قتل عام کو "حتمی حل” قرار دیا۔ ٹرائل کے دوران ایڈم نے بتایا کہ انہیں بچپن میں اپنے والد کی وجہ سے نسل پرستی کی تعلیم ملی۔ جوڑے اور اس کے ساتھیوں کو جمعے کے روز سنا سنائی جائے گی۔

کاونٹر ٹیررازام افسران کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں نسل پرست دہشت گرد گروہوں کے حملوں کا خطرہ بڑھ رہا ہے،  یہ گروہ منظم ہو کر خفیہ اور جدید طریقے استعمال کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ 1939 میں ہٹلر کی جانب سے پولینڈ پر جارحیت دوسری جنگ عظیم کے آغاز کا باعث بنی، جس میں‌ لاکھوں افراد لقمہ اجل بنے.

Comments

یہ بھی پڑھیں