The news is by your side.

وہ خوف ناک لمحہ جب برطانوی جوہری آب دوز اور مسافر کشتی میں ٹکراؤ ہوتے ہوتے بچا

لندن: ایٹمی طاقت سے چلنے والی ایک برطانوی آب دوز شمالی آئرلینڈ اور اسکاٹ لینڈ کے درمیان مسافروں کی ایک کشتی سے ٹکراتے ٹکراتے بچی۔

برطانوی میڈیا کے مطابق جوہری طاقت سے چلنے والی برطانوی آب دوزیں مسافر کشتیوں کے لیے خطرہ بن گئیں، جمعرات کو ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ شمالی آئرلینڈ اور اسکاٹ لینڈ کے مابین مسافروں کی ایک فیری آب دوز کی زد میں آ گئی تھی، یہ تباہی اس لیے ٹل گئی کہ ایک کشتی کے افسر نے عین موقع پر آب دوز کے پیری اسکوپ کو دیکھ لیا۔

حکومت کی میرین ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن برانچ نے 6 نومبر 2018 کو رونما ہونے والے اس واقعے کا آزادانہ جائزہ لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ گزشتہ 4 برسوں میں رائل نیوی آب دوز کا تیسرا واقعہ ہے، جس میں وہ کسی کشتی کے نہایت قریب سے گزرا اور حادثہ ہوتے ہوتے بچا۔

اسٹینا سپر فاسٹ VII نامی کشتی پر 215 مسافر اور 67 عملے کے افراد سوار تھے، کشتی اسکاٹ لینڈ کے مغربی ساحل پر بلفاسٹ اور کینرائن کے درمیان سفر کر رہی تھی، جب ایک نگران نے قریب ہی آب دوز کا پیری اسکوپ (آب دوز کا اطراف بین، جو پانی سے ابھرا ہوتا ہے) دیکھ لیا۔

محکمہ میرین ایکسیڈنٹس کے چیف انسپکٹر اینڈریو مول نے کہا کہ کشتی کے نگران افسر نے فوری طور پر مؤثر ایکشن لیتے ہوئے کشتی کا رخ موڑا اور پانی سے تھوڑی ابھری ہوئی آب دوز کے ساتھ خوف ناک تصادم کو ٹال دیا۔

بتایا گیا کہ گلاسگو کے مغرب میں موجود فاسلین نیول بیس سے مذکورہ آب دوز اس وقت حفاظتی اقدامات کی تربیت پر تھی، اس نے قریب موجود کشتی کو دیکھ لیا تھا لیکن اس کے عملہ یہ اندازہ لگانے میں ناکام رہا کہ وہ کتنی قریب ہے، اور بجائے دور جانے کے وہ کشتی کے اور پاس چلی گئی، ایک موقع پر یہ کشتی سے محض 250 میٹر دوری پر گزری۔

چیف انسپکٹر نے کہا کہ واقعہ اس لیے پیش آیا کیوں کہ سب میرین کی کنٹرول روم ٹیم نے کشتی کی رفتار کا اندازہ کم لگایا اور اس کے فاصلے کا اندازہ زیادہ لگایا، نتیجہ یہ نکلا کہ غلط معلومات کی بنیاد پر خطرناک فیصلہ لیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ اگرچہ حادثہ نہ ہوا تاہم یہ رائل نیوی سب میرین اور کسی کشتی میں ٹکراؤ کے خطرے کا چار سال میں تیسرا واقعہ ہے، جو قابل تشویش ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں