The news is by your side.

اگر پیوٹن عورت ہوتے تو یوکرین کیخلاف جنگ نہ کرتے، برطانوی وزیراعظم

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ اگر پیوٹن ایک عورت ہوتے تو مجھے نہیں لگتا کہ وہ اس طرح سے حملے اور تشدد کی جنگ کا آغاز کرتے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے روس یوکرین تنازع پر قدرے مضحکہ خیز اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پیوٹن کا یوکرین پر حملہ ان کی زہریلی مردانگی کی ایک بہترین مثال ہے، میرا خیال ہے کہ اگر پیوٹن ایک عورت ہوتے جو ظاہر ہے کہ وہ نہیں ہے، تو شاید وہ اس طرح سے حملے اور تشدد کی جنگ کا آغاز نہ کرتے۔

بورس جانسن نے مزید کہا کہ سب جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں لیکن فی الحال کوئی امکان نہیں نظر آتا کیوں کہ پیوٹن امن کی پیشکش نہیں کر رہے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ مغربی اتحادیوں کو یوکرین کی حمایت کرنی چاہیے تاکہ روس کے ساتھ امن مذاکرات ممکن ہونے کی صورت میں اسے بہترین ممکنہ اسٹریٹجک پوزیشن میں رکھا جا سکے۔

برطانوی وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ دنیا بھر میں لڑکیوں کے لیے بہتر تعلیم اور اقتدار کے عہدوں پر زیادہ سے زیادہ خواتین کی شمولیت پر کام کیا جائے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز ہی روس نے کہا ہے کہ وہ اپنے اہداف کی تکمیل تک یوکرین کیخلاف فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔

یہ بھی پڑھیں: یوکرین میں فوجی آپریشن کب تک جاری رہے گا؟ روس نے بتایا دیا

غیر ملکی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ میں روس کے پہلے نائب مستقل مندوب یدمتری پولیانسکی نے کہا ہے کہ یوکرین میں روس کا خصوصی فوجی آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک یوکرین دونباس پر گولہ باری بند نہیں کر دیتا اور اس کی سرزمین سے خطرے کا مکمل خاتمہ نہیں ہوجاتا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں