The news is by your side.

Advertisement

ہزاروں سال قبل ’کشمیری‘ کس فن میں ماہر تھے

کیا آپ جانتے ہیں کہ ہزاروں سال قدیم کشمیری ‘ اپنے ہم عصر شہروں سے زیادہ ہنرمند ‘ قابل اور خوشحال تھے ‘ موہن جو دڑو اور ہڑپہ سے ان کے تجارتی رشتے تھے۔

کشمیریوں کی جرات و بہادری سے تو ساری دنیا ان کی طویل جدوجہدِ آزادی کے سبب واقف ہے لیکن آرکیا لوجیکل سروے آف انڈیا کی تحقیق کے مطابق کشمیر کے رہنے والے آج سے پانچ ہزار سال قبل پارچہ بافی اور ہاتھ سے بنائے جانے والی اشیاء کے ماہر کاریگر تھے۔ واضح رہے کہ آج بھی کشمیری دستکاری کی مصنوعات دنیا بھر میں مشہور ہیں۔

یہ تحقیق بھارتی مقبوضہ وادی ٔ کشمیر کی ’برزوہام‘ نامی آرکیالوجیکل سائٹ پر کی گئی ہے اور اسے ادارے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف ایس فونیا نے مرتب کیا ہے۔

اب تک یہ سمجھا جاتا تھا کہ پتھر کے دور کے کشمیری ایک عام سے ابتدائی انسان کی سی زندگی گزارتے تھے لیکن طویل تحقیق سے ثابت ہوا کہ یہ لوگ نہ صرف ماہر کاریگر تھے بلکہ کئی دیگر خطوں سے ان کے تجارتی تعلقات بھی تھے۔

سائٹ سے ملنے والے آثارِ قدیمہ پر کی جانے والی تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ یہ لوگ ٹیکسٹائل کی صنعت پر اجارہ داری رکھتے تھے اور اس وقت کے پڑوسی ممالک جن میں چین ‘ ہمالیہ کی آغوش میں آباد علاقے اور ہڑپہ تہذیب کے شہروں سے تجارتی تعلقات تھے‘ یاد رہے کہ اس زمانے میں ہڑپہ اور موہن جو دڑو اس قدیم تہذیب کے عالیشان شہر تھے جن میں سے موہن جو دڑو کے آثار پاکستان کے صوبہ سندھ میں لاڑکانہ کے قریب موجود ہیں۔

تحقیق سے ثابت ہوا کہ نہ صرف ان کشمیریوں نے ہڑپہ اور چین سے کئی فنون سیکھے بلکہ انہوں نے اپنی فنی مہارت کے اثرات ان دونوں خطوں پر مرتب کیے۔

برزوہام نامی سائٹ پر تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ ایک ترقی کرتے ہوئے شہر کے آثار ہیں‘ جو کہ ابتدائی انسان کے دور سے آباد تھا جب انسان محض شکار پر گزارا کرتا تھا‘ رفتہ رفتہ یہ خطہ ترقی کرتا رہا‘ حتیٰ کہ انسانوں نے از خود اپنی خوراک پیدا کرنا شروع کردی۔


کشمیری آج سے پانچ ہزار سال قبل ٹیکسٹائل انڈسٹری میں اہم مقام رکھتے تھے

اوراس وقت کے کئی ممالک اور اس وقت کے کئی ممالک سے ان کے تجارتی تعلقات تھے


کئی سال جاری رہنے والی تحقیق میں معلوم ہوا کہ یہ لوگ ماہر کاریگر تھے جس کی گواہی وہاں سے دریافت ہونے والی اشیاء بہم فراہم کرتی ہیں ‘ جن میں ہڈی سے بنی ہوئی سوئیاں‘ کاٹن‘ اون اور پارچہ بافی سے متعلق دوسری اشیا ان کے ٹیکسٹائل کی تجارت پر اجارہ داری کی نشاندہی کرتی ہیں۔

دوسری جانب یہاں سے بڑی تعداد میں گلے کے ہار‘ چکنی مٹی کی بنی ہوئی چوڑیاں جو کہ اس علاقے میں نہیں بنائی جاتی تھیں‘ گواہی دیتی ہیں کہ ان کے موجودہ پاکستان اور چین سے تجارتی روابط موجود تھے۔

موسم کی سختی سے بچنے کے لیے بنائےگئے زیرِ زمین گھر جو کہ اوپر سے ڈھکے ہوئے ہوتے تھے‘ ان سے کشمیریوں کی تکنیکی مہارت کا اندازہ ہوتا ہے‘ دوسری جانب سے برآمد ہونے والی دو دھاری کرپیاں‘ دھاگہ لپیٹنے کے لیے بنائی گئی ریلیں‘ نیزوں کے سر‘ تانبے کے بنے ہوئے تیر‘ ہل اور چاقو آج سے پانچ ہزار قبل ان کے ایک ترقی یافتہ اور ٹیکنالوجی سے لیس قوم ہونے کا پتا دیتے ہیں۔

یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس زمانے میں کشمیریوں کے لیے کتا اور بھیڑ سب سے اہم جانورتصور کیے جاتے تھے یہاں تک کہ انہیں انسانوں کے ساتھ دفن بھی کیا جاتا تھا ‘ یقیناً یہ اہمیت گلہ بانی کی وجہ سے رہی ہوگی جو کہ اس زمانے میں اون کے حصول کے لیے انتہائی اہم ذریعہ تھا۔

برزوہام نامی یہ سائٹ کیمبرج کے کے دو ماہرینِ آثارِ قدیمہ ایچ ڈی ٹیرا اور ٹی ٹی پیٹرسن نے سنہ 1935 میں دریافت کی تھی‘ اس پر مزید کام سنہ 1960 سے 1971 تک ٹی این خزانچی نے کیا تھا‘ تاہم وہ کوئی حتمی رپورٹ مرتب کئے بغیر انتقال کرگئے۔ ان کے بعد فونیا نے اس کام کا بیڑہ اٹھایا اور دس سال کی انتھک محنت سے یہ رپورٹ مرتب کی۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں