The news is by your side.

Advertisement

’مجھے محسوس ہوا، کچھ غلط ہے‘ : بس ڈرائیور نے گیارہ سالہ بچی کی کیسے مدد کی

اوہایو: امریکا کی خاتون بس ڈرائیور نے گمشدہ بچی کو اہل خانہ تک پہنچا کر ’ہیرو‘ کا لقب حاصل کرلیا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق لکیشا انگلش نامی خاتون نے 6 ہفتے قبل بس ڈرائیور کی ملازمت حاصل کی اور ایک’نیکی‘ کر کے سب کے دل جیت لیے۔

لکیشا نے بتایا کہ رواں ہفتے جب وہ اوہایو کے علاقے فیرفیلڈ میں گاڑی لے کر پہنچیں تو اُن کی نظر گیارہ سالہ بچی پر پڑی جو ایک کونے میں پریشان بیٹھی ہوئی تھی، جسے دیکھ کر مجھے محسوس ہوا کہ کچھ غلط ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ منظر دیکھ کر اُن سے رکا نہیں گیا اور وہ جلدی سے بچی کے پاس پہنچی۔ بس ڈرائیور کے مخاطب ہونے پر بچی نے اپنا نام بینڈورا پیپس بتایا۔

پینڈورا نے خاتون ڈرائیور کو بتایا کہ اُس کا گھر ہملٹن میں ہے، وہ چہل قدمی کے لیے گھر سے باہر نکلی اور پیدل چلتی ہوئی یہاں تک پہنچی، اب وہ واپس گھر جانے کا راستہ بھول گئی ہے‘۔

لکیشا نے گفتگو کے بعد ڈاکیے کو فون کیا جس نے ہملٹن پولیس سے پھر رابطہ کر کے تمام تر صورت حال سے آگاہ کیا۔

پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر گمشدہ بچی کے حوالے سے پیغام جاری کیا جس کے بعد والدین اُسے لینے کے لیے پہنچ گئے۔

اُن کا کہنا تھاکہ ’مجھے اس بات کا یقین نہیں تھاکہ میں بچی کے کسی کام آسکتی ہوں، مگر یہ سوچ کر وہاں پر کھڑی رہی کہ ہوسکتا ہے بچی کو کوئی غلط کام کرنے والا اپنے ساتھ لے جائیں‘۔

گمشدہ بچی کی دیکھ بھال اور اُس کی فکر کرنے پر شہریوں نے خاتون بس ڈرائیور کو ہیرو قرار دیا جبکہ والدین نے بھی لیکشا کے لیے دعائیہ کلمات ادا کیے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں