The news is by your side.

Advertisement

آج خلافت عباسیہ کے مشہور ترین خلیفہ ہارون الرشید کی برسی ہے

آج خلافت ِ عباسیہ کے پانچویں اور مشہور ترین خلیفہ ہارون الرشید کی1210 ویں برسی ہے، وہ 23 سال مسند ِ خلافت پر فائز رہے اور ان کادور خلافت ِ عباسیہ کے سنہرے دور سے تعبیر کیا جاتاہے۔

ہارون الرشید کی پیدائش ایک روایت کے مطابق فروری 763ء میں پیدا ہوئے تاہم ان کی تاریخ پیدائش میں مورخین میں اختلاف ہے ، کچھ مورخین کے نزدیک وہ 763 سے 766 کے عرصے میں کہیں پیدا ہوئے تھے تاہم ان کی تاریخ وصال حتمی ہے کہ وہ 24 مارچ 809ء کو انتقال کرگئے تھے۔

ہارون کے دور میں فنونِ لطیفہ کی ترقی

وہ 786ء سے 24 مارچ 809ء تک مسند خلافت پر فائز رہے اور ان کا دور سائنسی، ثقافتی اور مذہبی رواداری کا دور کہلاتا ہے۔ ان کے دور حکومت میں فن و حرفت اور موسیقی نے بھی عروج حاصل کیا۔ ان کا دربار اتنا شاندار تھا کہ معروف کتاب ’الف لیلیٰ ہزار داستان‘ کے لیے کہا جاتا ہے کہ اس کی ابتدائی تحریک وہیں سے لی گئی تھی۔

ہارون رشید تیسرے عباسی خلیفہ المہدی کے صاحبزادے تھے جنہوں نے 775ء سے 785ء تک خلافت کی۔ ہارون اس وقت خلیفہ بنے جب وہ عمر کے 22 ویں سال کے اوائل میں تھے۔

ہارون کے نام کے سکے

جس دن انہوں نے مسند خلافت سنبھالی اسی دن ان کی اہلیہ نے مامون الرشید کو جنم دیا۔ ہارون رشید کے دور میں عباسی خلافت کا دار الحکومت بغداد اپنے عروج پر پہنچ گیا۔ انہوں نے بغداد میں نیا محل تعمیر کرایا جو اس سے قبل کے تمام محلات سے زیادہ بڑا اور خوبصورت تھا جس میں ان کا معروف دربار بھی تھا جس سے ہزاروں درباری وابستہ تھے۔

بعد ازاں انہوں نے شام کے حالات کے پیش نظر دربار الرقہ، شام منتقل کر دیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ بغداد دنیا کے کسی بھی مقام سے زیادہ بہتر ہے۔ ہارون کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ راتوں کو بھیس بدل کر دار الحکومت کی گلیوں میں چکر لگاکر عوام کے مسائل معلوم کیا کرتا تھا تاہم بعض مورخین کے نزدیک یہ واقعات محض شاہ پرستوں کی روایتیں ہیں، تاہم وہ ایک باخبر حاکم ضرور تھا۔

ہارون علم، شاعری اور موسیقی سے شغف رکھنے کے علاوہ خود ایک عالم اور شاعر تھا اور اسے جب بھی اپنی سلطنت یا پڑوسی سلطنتوں میں کسی عالم کا پتہ چلتا تو وہ اسے اپنے دربار میں ضرور طلب کرتا۔ اس کے دور میں خلافت عباسیہ کے چین اور فرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم ہوئے۔

ہارون کی جنگی صلاحیتیں

عسکری شعبے میں ہارون ایک جانباز سپاہی تھا جس نے اسی وقت اپنی بہادری کے جوہر دکھادیئے تھے جب اس کے والد خلیفہ تھے۔ انہوں نے بعد ازاں بازنطینی سلطنت کے خلاف 95 ہزار کی فوج کی کمان سنبھالی جو اس وقت ملکہ ایرین کے زیرسربراہی تھی۔ ایرین کے معروف جنرل نیکٹس کو شکست دینے کے بعد ہارون کی فوج نے کریسوپولس (موجودہ اوسکودار، ترکی) میں پڑاو ٔڈالا جو قسطنطنیہ کے بالکل سامنے ایشیائی حصے میں قائم تھا۔

جب ملکہ نے دیکھا کہ مسلم افواج شہر پر قبضہ کرنے والی ہیں تو اس نے معاہدے کے لیے سفیروں کو بھیجا لیکن ہارون نے فوری ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کرتے ہوئے تمام شرائط منظور کرنے سے انکار کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ ایک سفیر نے کہا کہ ملکہ نے بطور جنرل آپ کی صلاحیتوں کے بارے میں بہت کچھ سنا ہے حالانکہ آپ ان کے دشمن ہیں لیکن وہ بطور ایک سپاہی آپ کی قدر کرتی ہیں۔ ہارون ان کلمات سے خوش ہوا اور سفیروں کو کہا کہ اپنی ملکہ سے کہہ دو کہ وہ ہمیں سالانہ 70 ہزار اشرفیاں عطا کرتی رہے تو کوئی مسلم فوج قسطنطنیہ کو نقصان نہیں پہنچائے گی۔ ملکہ نے اس شرط کو تسلیم کر لیا اور پہلے سال کا خراج عطا کیا جس پر مسلم افواج واپس گھروں کو لوٹ گئیں۔

کئی سال تک خراج کی ادائیگی کے بعد 802 نائسی فورس نے خراج کی ادائیگی سے انکار کرتے ہوئے جنگ کا اعلان کیا۔ ہارون ایک عظیم فوج لے کر نائسی فورس کے مقابلے پر آیا اور بحیرہ اسود کے کنارے شہر ہراکلیا کامحاصرہ کرکے نائسی فورس کو دوبارہ خراج کی ادائیگی پر رضامند کیا۔ لیکن خلیفہ کے بغداد پہنچتے ہی وہ ایک مرتبہ پھر مکر گیا جس پر ہارون 15 ہزار افراد کے ساتھ ایشیائے کوچک پر ایک مرتبہ پھر حملہ آور ہوا جبکہ رومیوں کی تعداد ایک لاکھ 25 ہزار تھی لیکن ہارون نے اسے زبردست شکست دی اور نائسی فورس زخمی ہوا اوراس کے 40 ہزار فوجی مارے گئے۔

خراج کی ادائیگی پر رضامندی کے اظہار کے باوجود رومی بادشاہ ایک مرتبہ پھر مکر گیا جس پر ہارون رشید نے اس کے قتل کا حکم جاری کیا اور ایک مرتبہ پھر رومی سلطنت پر چڑھائی کی لیکن اسی وقت سلطنت عباسیہ کے ایک شہر میں بغاوت شروع ہو گئی جسے کچلنے کے لیے وہ اس جانب روانہ ہوا لیکن بیماری کے باعث انتقال کرگیا۔ اسے طوس میں دفنایا گیا۔

طوس میں موجود ہارون الرشید کا مزار

ہارون کے دور میں ہونے والی بغاوتیں

ہارون کا دور جہاں ایک جانب فنون ِ لطیفہ اور تعمیرات کے عروج کا دور تھا وہیں دوسری جانب عظیم عباسی خلافت کے زوال کی بنیاد بھی اسی دور میں پڑچکی تھی جسے بڑھانے میں مزید کردار ہارون کی اس کوشش سے پہنچا جس میں اس نے سلطنت کو اپنے دو بیٹوں مامون اور امین میں تقسیم کرنے کی کوشش کی تھی۔

ہارون کے دور حکومت میں ہی شام میں امویوں کے حامی قبائل نے بغاوت کردی تھی جبکہ مصر میں بھی بد انتظامی اور بھاری ٹیکسوں کے سبب بےچینی شروع ہوچکی تھی جو کہ بغاوتوں پر منتج ہوئی۔ دوسری جانب ہارون سے پہلے ہی سنہ 755 میں امویوں کی ایک شاخ اسپین میں اپنی خلافت قائم کرچکی تھی جبکہ 788 میں مراکش میں ادریسیوں نے اپنی حکومت قائم کرلی۔

سنہ 800 میں تیونس بھی اغلبدیوں کے ہاتھ میں چلا گیا تھا جبکہ یمن میں بھی بے چینی رہی اور دایلم،، کرمان، فارس اور سیستان میں بھی خوارج سر اٹھاتے رہے۔ سب سے بڑی بغاوت خراسان میں ہوئی۔ جسے فرو کرنے کے لیے بعد میں عباسیوں کا اپنا دارلخلافہ خراسان منتقل کرنا پڑا۔ دوسری جانب بازنطینی سلطنت بھی عباسیوں کے مستقل مدمقابل رہی ۔

ہارون اور امام موسیٰ کاظم

خلافت عباسیہ ہمیشہ سے ہی بنی ہاشم کی جانب سے تحفظات کا شکاررہی تھی اور یہی سبب تھا کہ مہدی کی طرح ہارون بھی اپنے دور میں امام موسیٰ کاظم سے خائف رہا اور انہیں اپنی زندگی کا زیادہ تر عرصہ قید و بند میں گزارنا پڑا۔ ہارون کو یہ بھی اندیشہ تھا کہ ان کی عوام میں مقبولیت کسی بھی وقت بغاوت کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ دوسری جانب امام کے قریبی حلقوں میں سے کچھ لوگ ان سے خائف تھے اور وہ مسلسل ہارون کو خبر پہنچاتے تھے کہ امام خمس جمع کررہے ہیں اورکسی بھی وقت بغاوت ہوسکتی ہے۔

ملکہ زبیدہ اورمکے کی نہر

ہارون رشید کی بیوی زبیدہ خاتون بہت ہی دیندار اور صاحب علم و فضل خاتون تھی۔ ان کے محل میں ایک ہزار باندیاں چوبیس گھنٹے قرآن پاک کی تلاوت میں مشغول رہتی تھیں۔ خلیفہ ہارون الرشید کی بیوی زبیدہ خاتون ایک مرتبہ حج کی ادائیگی کے لئے مکہ آئیں۔ ان دنوں پانی کی قلت تھی اور حجاج کرام کو خاص طور پر بہت تکلیف تھی انہوں نے جب اہل مکہ اور حجاج کرام کو پانی کی دشواری اور مشکلات میں مبتلا دیکھا تو انہیں بہت رنج ہوا چنانچہ انہوں نے اپنے اخراجات سے ایک عظیم الشان نہر کھودنے کا حکم دے کر ایک فقیدالمثال کارنامہ سرانجام دیا جو رہتی دنیا تک یاد رہے گا۔

نہر کی کھدائی کا منصوبہ بنانے کے لئے مختلف علاقوں سے ماہر انجینئر بلوائے گئے۔ انجینئرز کے منصوبے کے مطابق سرحد سے 35 کلومیٹر شمال مشرق میں وادی حنین سے نہر نکالنے کا پروگرام بنایا گیا۔ اس عظیم منصوبے پر سترہ لاکھ دینار خرچ ہوئے۔ جب نہر زبیدہ کی منصوبہ بندی شروع ہوئی تو اس منصوبہ کا منتظم انجینئر آیا اور کہنے لگا ،آپ نے جس نہرکا حکم دیا ہے اس کے لئے خاصے اخراجات درکار ہیں کیونکہ اس کی تکمیل کے لئے بڑے بڑے پہاڑوں کو کاٹنا پڑے گا، نشیب و فراز کی مشکلات سے نمٹنا پڑے گا اور سینکڑوں مزدوروں کو دن رات محنت کرنا پڑے گی تب کہیں جاکر منصوبہ پایہِ تکمیل تک پہنچایا جاسکتا ہے۔

یہ سن کر زبیدہ نے انجینئر سے کہا: اس کام کو شروع کرو خواہ کلہاڑے کی ایک ضرب پر ایک دینار خرچ آتا ہو اس طرح جب نہر کا منصوبہ تکمیل کو پہنچ گیا تو منتظمین اور نگران حضرات نے اخراجات کی تفصیلات ملکہ کی خدمت میں پیش کیں۔ اس وقت ملکہ دریائے دجلہ کے کنارے واقع اپنے محل میں تھیں۔ ملکہ نے وہ تمام کاغذات لئے اور انہیں کھولے بغیر دریا برد کردیا اور کہنے لگیں: الہٰی! میں نے دنیا میں کوئی حساب نہیں لیا تو بھی مجھ سے قیامت کے دن حساب نہ لینا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں