The news is by your side.

Advertisement

”کلک“ سے پہلے اسے پڑھ لیجیے….

ہم روشنی کی مدد سے اشیا کو دیکھتے ہیں۔

انسان نے ترقی کے مدارج طے کیے اور جب یہ جانا کہ اس کی آنکھ کس طرح کام کرتی ہے اور وہ کیسے کسی منظر اور شے کو دیکھ پاتا ہے تو اس نے کیمرا ایجاد کیا۔

یہ روشنی کی مدد سے ہماری آنکھ کی طرح ہی کام کرنے والی ایک ایجاد ہے۔

آج یہ ایجاد پہلے سے کہیں زیادہ جدید اور طاقت ور ہوچکی ہے، اور اب ڈیجیٹل کیمروں سے بہترین فوٹوگرافی کی جارہی ہے، مگر اس کے کام کرنے کا بنیادی طریقہ اور اصول انسانی آنکھ اور روشنی ہی ہے۔

اسے ہم سادہ الفاظ میں بیان کریں تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ جس طرح ضرورت سے کم یا زیادہ روشنی میں آنکھ کی پتلی (Pupil) پھیلتے ہوئے یا سکڑ کر روشنی کی شدت (Light Intensity) کو قابو کرکے پردۂ چشم (Retina) پر مناسب عکس بناتی ہے، بالکل اسی کیمرے میں موجود لینز کا سوراخ جسے اپرچر کہتے ہیں اسے بڑا یا چھوٹا کر کے مناسب عکس بنایا جاتا ہے۔

اچھی فوٹوگرافی کے لیے کیمرے کی آنکھ سے منظر کو قید کرنے کی خواہش رکھنے والے کو ایکسپوژر، شٹر، اپرچر اور آئی ایس او کو سمجھنا ہوتا ہے، کیوں کہ فوٹوگرافی انہی پر عبور حاصل کرنے کا نام ہے۔

فوٹو گرافر جانتا ہے کہ ایکسپوژر سے مراد ”تصویر میں روشنی کی شدت (مقدار)“ ہے۔ تصویر میں ضرورت سے زیادہ چمک یا منظر میں تاریکی اس کی خرابی تصور کی جاتی ہے۔

عکاسی کے دوران مناسب ایکسپوژر کے لیے فوٹو گرافر شٹر، اپرچر اور آئی ایس او کی سیٹنگز استعمال کرتا ہے۔

شٹر دراصل کیمرے میں تصویر بنانے والے سینسر کے آگے موجود پردے کو کہتے ہیں جو تصویر بناتے ہوئے ایک خاص وقت کے لیے کھلتا اور پھر بند ہو جاتا ہے۔ اسی دوران روشنی سینسر پر پڑتی ہے اور عکس بناتی ہے۔

لینز کا وہ سوراخ جس سے روشنی گزر کر سینسر تک پہنچتی ہے، اسے ہم اپرچر کہتے ہیں جسے فوٹو گرافر بڑا یا چھوٹا کرسکتا ہے تاکہ مرضی کے مطابق مناسب عکس محفوظ کرسکے۔

اس کے بعد آئی ایس او (ISO) کی وضاحت ضروری ہے۔ اس سے مراد تصویر بنانے والے سینسر کی حساسیت (Sensitivity) ہے اور اس کا خیال رکھ کر ہی اچھا رزلٹ حاصل کیا جاسکتا ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں