The news is by your side.

Advertisement

خواتین کے لیے خوش خبری، کپڑوں کو خوش بُو دار بنانا نہایت آسان

ایک زمانے میں امریکا کی چند ریاستوں کی شاہ راہوں کی خوب صورتی بڑھانے کے لیے اطراف میں‌ کافور کے درخت لگائے گئے تھے. یہ درخت سدا بہار مانا جاتا ہے۔ یہ اوپر سے بہت گھنا اور اس کی اونچائی 40 فٹ تک ہوسکتی ہے۔ اس میں چھوٹے چھوٹے زرد پھول لگتے ہیں جب کہ اس کی شاخیں، پتے اور تنا بھی خوش بُو دار ہوتا ہے۔ ماہرینِ نباتات کے مطابق اس درخت کا عرق ہمارے لیے کافور کے حصول کا ذریعہ ہے جس کے کیمیائی اور طبی سائنس میں کئی فوائد بتائے گئے ہیں۔

کافور کی مخصوص مقدار بے ہوشی کی ادویہ میں استعمال کی جاتی ہے۔ جلد پر جلن اور سوزش کی صورت میں بھی کافور استعمال کرنے سے فائدہ ہوتا ہے۔ دانتوں کے درد میں اس کا استعمال فائدہ پہنچاتا ہے جب کہ یہ جراثیم کُش بھی ہے۔ گھروں میں مختلف اشیا کو خوش بُو دار بنانے کے لیے کافور کا استعمال عام ہے۔

کافور کا نام تو سبھی نے سنا ہو گا لیکن اس کے درخت اور فوائد کے بارے میں کم ہی لوگ جانتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق کافور زیادہ تر چین میں پیدا ہوتا ہے جب کہ جاپان اور بورنیو کے جزائر میں بھی اسے کاشت کیا جاتا ہے۔
پاکستان میں کافور کے درخت کو ککروندہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ تاہم جو معروف کافور ہمارے استعمال میں آتا ہے، اسے ایک بڑے درخت سے حاصل کیا جاتا ہے جس کا تذکرہ ہم کرچکے ہیں۔ اس درخت پر بے شمار پھول لگتے ہیں اور یہ فالسے کے برابر پھل میں بدل جاتے ہیں۔ اس درخت کی لکڑی بھی خوش بُو دار ہوتی ہے۔

کافور کے درخت کی لکڑی سے صندوق اور دیگر اشیا تیار کی جاتی ہیں۔ کافور کی خاصیت ہے کہ اشیا کے ساتھ عرصے تک پڑا رہنے دیا جائے تو ان میں بھی اس کی خوش بُو بس جاتی ہے۔ کہتے ہیں اس کی ٹکیاں کپڑوں اور زیورات کے ساتھ رکھ دی جائیں تو وہ زیادہ عرصے تک محفوظ اور خوش بُو دار ہو جاتے ہیں۔ تاہم اب اصلی کافور کم ہی ملتا ہے اور اسے کیمیائی طریقے سے باقاعدہ تیار کیا جانے لگا ہے۔

اصلی کافور مختلف بیماریوں میں مفید ثابت ہوتا ہے۔ تاہم کسی ماہر معالج اور طبیب کی ہدایت کے بغیر کافور کا استعمال نقصان دہ ثابت ہوگا۔ کافور کی مخصوص مقدار مختلف امراض سے نجات میں مؤثر مرہموں میں شامل کی جاتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں