17.1 C
Ashburn
ہفتہ, مئی 25, 2024
اشتہار

کینسر کی جعلی ادویات بھی بننے لگیں، بین الاقوامی گروہ کا پردہ فاش

اشتہار

حیرت انگیز

نئی دہلی: بھارت میں کینسر کی جعلی ادویات بنا کر مارکیٹ کرنے والے ایک بین الاقوامی گروہ کا پردہ فاش ہوا ہے، پولیس نے دہلی میں 7 افراد کو گرفتار کر لیا۔

دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے جعلی ادویات بنانے اور سپلائی کرنے والے ایک بین الاقوامی گروہ کو پکڑا ہے، گرفتار ملزمان میں دہلی کے ایک مشہور کینسر اسپتال کے 2 ملازمین بھی شامل ہیں۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق کرائم برانچ نے یہ دل دہلا دینے والا انکشاف کیا کہ گرفتار ملزمان 1.96 لاکھ روپے کے انجیکشن میں کینسر کی جعلی دوا بھر کر فروخت کرتے تھے، فارماسسٹ کینسر کی یہ جعلی دوا نہ صرف بھارت میں بلکہ چین اور امریکا جیسے ممالک میں بھی سپلائی کر رہے تھے۔

- Advertisement -

پولیس نے ملزمان کے قبضے سے 89 لاکھ روپے نقد، 18 ہزار ڈالر اور 7 بین الاقوامی اور 2 انڈین برانڈز کی جعلی کینسر ادویات برآمد کیں، جن کی مالیت 4 کروڑ روپے ہے۔

کرائم برانچ کے مطابق تین ماہ کی تفتیش کے بعد ٹیم نے اس گینگ کا پردہ فاش کیا، پولیس ٹیم نے دہلی میں کئی مقامات پر چھاپے مارے، ریکٹ کے سرغنہ ویفل جین نامی ملزم نے موتی نگر کے ڈی ایل ایف کیپٹل گرینس کے دو فلیٹوں میں دوا اور انجیکشن یونٹ قائم کیا تھا، چھاپے کے دوران وہاں سے جعلی ادویات پکڑی گئیں۔

مختلف جگہوں پر کینسر کی جعلی ادویات کی شیشیوں کو دوبارہ بھرنے یعنی ری فلنگ اور پیکنگ کا کام کیا جاتا تھا، پولیس نے فلیٹوں سے کیپ سیل کرنے والی مشینیں، ہیٹ گن مشین اور 197 خالی شیشیاں برآمد کیں، نیرج چوہان نامی ملزم نے گروگرام کے ایک فلیٹ میں کینسر کے جعلی انجیکشن اور شیشیوں کا بڑا ذخیرہ رکھا تھا، اس کی نشان دہی پر اس کے کزن تشار چوہان کو بھی گرفتار کیا گیا۔

پرویز نامی شخص کو یمنا وہار، دہلی سے گرفتار کیا گیا، جو ویفل جین کے لیے خالی شیشیوں کا بندوبست کرتا تھا۔ جب کہ دہلی کے کینسر اسپتال کے دو ملازمین کومل تیواری اور ابھینے کوہلی کو بھی گرفتار کیا گیا، جو ملزمان کو اسپتال کی خالی شیشیاں فراہم کرتے تھے۔

Comments

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں