The news is by your side.

Advertisement

سوشل میڈیا پوسٹ پر خاتون پروفیسر پر مودی سرکار آپے سے باہر

نئی دہلی : بھارت میں کشمیر سے متعلق سوشل میڈیا پوسٹ پر خاتون پروفیسر اور شوہر پر مقدمہ درج کردیا گیا ، مقدمہ ہندو مہاسبھا کے رہنما اشوک پانڈے نے  درج کرایا، ہما پروین علی گڑھ یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔

تفصیلات کے مطابق مودی سرکار کے بھارت میں کشمیر کی صورتحال پر بات کرنا بھی جرم بنا دیا گیا، مقبوضہ کشمیر سے متعلق سوشل میڈیا پوسٹ پر مسلمان خاتون پروفیسراور ان کے شوہر پر مقدمہ درج کرلیا گیا۔

ہندو مہاسبھا کے رہنما اشوک پانڈے نے پروفیسر کے خلاف فوج کے مورال اور ملک کی سلامتی کو نقصان کے الزام میں مقدمہ درج کرایا، پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق علی گڑھ یونیورسٹٰی کے شعبہ ماس کمیونیکیشن کی پروفیسرہما پروین نے پوسٹ میں مقبوضہ کشمیرمیں جاری کمیونیکشن بلیک آؤٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ سچ میں رابطہ ٹوٹ جانا کتنا خطرناک اور دکھ بھرا ہوتا ہے چاہے چندریان ہو یا کشمیر۔بھارت نے گزشتہ دنوں چندریان کے نام سے چاند پر خلائی مشن بھیجا تھا جس کے چاند پر اترنے سے چند لمحوں قبل رابطہ ٹوٹ گیا تھا۔ ہما پروین نے اسی کا موازنہ کشمیر سے کیا۔

ہما پروین کے شوہر نعیم شوکت کشمیری صحافی ہیں، جو 5 اگست کو بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے نفاذ کے وقت کشمیر میں تھے اور دونوں میاں بیوی کا ایک دوسرے سے رابطہ کافی عرصے تک منقطع رہا۔

دوسری جانب ہما پروین نے اپنے موقف میں کہا ہے کہ میں نے سوشل میڈیا پر پہلے سے موجود پوسٹ شیئر کرائی تھیں، جن میں مشہور شاعر راحت اندوری اور گاندھی کی جمہوریت اور اختلاف رائے کے احترام کے اقوال شامل ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں