site
stats
سندھ

کراچی جیل کا نظام طاقتور قیدی چلاتے ہیں، حکام نہیں، سی ٹی ڈی رپورٹ

کراچی : کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی ) نے انکشاف کیا ہے کہ سینٹرل جیل کراچی کے معاملات حکام نہیں بلکہ کالعدم جماعتوں کے قیدی چلاتے تھے، جیل سے قیدیوں کے فرار کو روکنا جیل حکام کے بس میں نہیں تھا۔

اے آر وائی نیوز کے نمائندہ کامل عارف کے مطابق گزشتہ دنوں کراچی جیل سے فرار ہونے والے دو قیدیوں کے حوالے سے کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی ) کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سینٹرل جیل کراچی کے معاملات کالعدم تنظیموں کے اہم قیدی چلا رہے ہیں۔

اپیکس کمیٹی میں پیش کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قیدیوں کو جیل سے فرار ہونے سے روکنا جیل حکام کے بس میں نہیں تھا، جیل حکام کالعدم تنظیم کے خطرناک قیدی حافظ قاسم رشید عرف گنجا سے ڈرتے ہیں، اور اسی خوف کے باعث جیل حکام ایسے قیدیوں سے قانون اور ضابطے پر بھی عمل نہیں کروا سکتے۔

نمائندہ اے آر وائی نیوز کا مزید کہنا ہے کہ یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ خوف، غفلت اورنااہلی کے باعث جیل انتظامیہ ان قیدیوں کا کہنا ماننے پر مجبور ہوجاتی ہے۔ جس کی وجہ سے سارا انتظام یہ قیدی چلاتے ہیں متعلقہ پولیس نہیں چلاتی۔


مزید پڑھیں: سینٹرل جیل سے کالعدم جماعت کے 2 خطرناک قیدی فرار


رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جیل سپرنٹنڈنٹ سمیت دیگر سینئر افسران اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہیں، زیادہ تر جیل حکام کرپشن میں ملوث ہیں اور جیل کا پورا نظام کرپشن میں گھرا ہوا ہے۔


مزید پڑھیں: سینٹرل جیل سے قیدیوں کے فرار میں جیل حکام ملوث نکلے


جیل میں موجود سیاسی یا مذہبی جماعتوں کے قیدی دھمکیاں دے کر اپنا کام چلاتے ہیں جبکہ دیگر عام قیدیوں کو کسی بھی سہولت کیلئے پیسے ادا کرنا پڑتے ہیں، یہ قیدی اس حد تک آزاد ہیں کہ وہ وارڈز اور کھولیوں کو بند اور کھول سکتے ہیں، حافظ قاسم رشید، سرمد صدیقی اور منہاج قاضی سمیت دیگر اپنے اپنے وارڈز کے ذمہ دار ہیں۔


مزید پڑھیں: سینٹرل جیل میں سرچ آپریشن، قیدیوں سے 35 لاکھ رقم برآمد


سی ٹی ڈی اپنی رپورٹ میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مزید انکشاف کیا کہ جیل میں موجود قیدی جو کرنا چاہیں کرسکتے ہیں، مذکورہ قیدی کورٹ سمن کے بغیر بھی جوڈیشل کمپلیکس جا سکتے ہیں اور اس کا کوئی ریکارڈ مرتب نہیں کیا جاتا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top