The news is by your side.

Advertisement

صدیوں جاری رہنے والی انوکھی جنگ جس میں خون کا ایک قطرہ نہ بہا!

نیدر لینڈ اور انگلینڈ کے جزائر سسلی میں جنگ چھڑی جو 300 سال سے زائد عرصہ جاری رہی لیکن خون کا ایک قطرہ تک نہ بہا۔

جنگ تباہی کا دوسرا نام ہے اور دنیا کی تاریخ تباہ کن جنگوں سے بھری پڑی ہیں جس میں ہزاروں، لاکھوں جانیں ضائع ہوئیں، تباہی کی لرزہ خیز داستانیں بنیں، ملک اور پورے پورے شہر صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کی مہذب دنیا تمام مسائل کا حل جنگ کے بجائے بات چیت اور مذاکرات کو ہی گردانتی ہے۔

لیکن دنیا کی تاریخ میں ایک ایسی طویل ترین جنگ بھی لڑی گئی ہے جس کا دورانیہ ایک دو سال نہیں تین صدیوں سے زائد پر محیط ہے اور یہ جنگ 335 سال تک جاری رہی لیکن اس جنگ کا سب سے حیرت انگیز اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس میں خون کا ایک قطرہ بھی نہیں بہا۔

تاریخی کی طویل ترین جنگ نیدر لینڈ اور انگلینڈ کے جزائد سسلی کے درمیان چھڑی جس کا آغاز سترھویں صدی عیسوی کے وسط میں 1651 کو ہوا اور اختتام بیسویں صدی کے آخر میں 1986 میں ہوا۔

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب انگلینڈ کے اراکین پارلیمنٹ اور شاہی خاندان کے حامی عسکری قوت رائلسٹس کے درمیان تنازع بڑھا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے خانہ جنگی کی صورت اختیار کرلی اس جنگ سے نیدر لینڈ کا براہ راست کوئی تعلق تو نہیں تھا لیکن اس نے پھر بھی ایک غیر متعلقہ کھلاڑی کے طور پر اس جنگ میں اپنا حصہ ڈالا۔

نیدر لینڈ کو اس اندرونی جنگ میں شامل ہونے کا فیصلہ اس لیے کرنا پڑا کہ اس تنازع میں انگلینڈ کے اراکین پارلیمنٹ کو ممکنہ فاتح قرار دیا گیا جس پر رائلسٹس جو نیدرلینڈ کے طویل عرصے سے اتحادی تھے نے اس فیصلے کو دھوکے کے مترادف قرار دیا اور انگلینڈ کی حدود میں آنے والے ڈچ سامان بردار بحری جہازوں پر چھاپے مارنا شروع کردیے۔

اراکین پارلیمنٹ کی قیادت کرومویل کے ہاتھ میں تھی جس نے بھرپور طاقت اور ثابت قدمی سے رائلسٹس کا مقابلہ کیا اور یہاں تک کہ رائلسٹس کی نیوی کو آئزلز آف سِلی (جزیروں پر مشتمل انگلینڈ کے خطے) کی طرف دھکیل دیا۔ چونکہ رائلسٹس نے نیدرلینڈ کے کئی بحری جہازوں کو نقصان پہنچایا تھا، نیدرلینڈ نے رائلسٹس سے اُن نقصانات کی ادائیگی کا مطالبہ کیا جس پر ناراض رائلسٹس نے انکار کردیا۔

رائلسٹس کا سردمہر رویہ دیکھ کر ڈچ نیوی کے سربراہ ایڈمرل مارٹن ٹرومپ نے آئزلز آف سِلی کے ساتھ اعلانِ جنگ کردیا تاہم اعلان جنگ کے کچھ ہی عرصے بعد اسی سال جون1651 میں رائلسٹس نے ڈچ آرمی کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور یوں نیدرلینڈ کے حمایت یافتہ اراکین پارلیمنٹ کا آئزلز آف سِلی پر کنٹرول ہوگیا۔

عملاْ یہ جنگ تو صرف چند ماہ ہی جاری رہی لیکن دنیا کی طویل ترین جنگ بننے کا دلچسپ سبب یہ ہے کہ جب ڈچ فوج نے وہاں سے واپسی کے لیے رخت سفر باندھا تو وہ اعلان جنگ سے رجوع کرنا (جنگ کے خاتمے کا اعلان کرنا) بھول گئے اور یوں سرکاری طور پر جنگ کا سلسلہ 335 سال تک جاری رہا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں