The news is by your side.

Advertisement

پانی میں ڈوبے صدیوں پرانے گاؤں نے سیاحوں کو بے چین کر دیا (ویڈیو)

ٹسکنی: پانی میں ڈوبے صدیوں پرانے اطالوی گاؤں نے سیاحت کے شعبے میں زبردست ہلچل مچا دی ہے، سیاح اس ڈوبے ہوئے تاریخی گاؤں کو دیکھنے کے لیے بے چین ہو گئے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق 12 ویں صدی کا اطالوی گاؤں، جو پانی کے نیچے چلا گیا تھا، اب 1994 کے بعد ایک بار پھر سطح پر ابھرنے کو ہے، یہ گاؤں ایک ڈیم کے پانی میں ڈوبا ہوا ہے جسے مینٹی نینس کے لیے خالی کرایا جا رہا ہے۔

فیبرش ڈائی کریجین نامی یہ گاؤں وسطی اٹلی کے علاقے ٹسکنی میں واقع ہے، جو 1946 میں قریب میں ایک ڈیم کی تعمیر کے بعد واگلی نامی مصنوعی جھیل کے پانی کے نیچے چلا گیا تھا، اب 26 سال بعد یہ دوبارہ سطح پر آ رہا ہے، اس سے قبل یہ 1958 میں، پھر 1974 میں اور اس کے بعد 1983، اور آخری بار 1994 ڈیم کے مینٹی نینس کے لیے خالی کرانے کی وجہ سے سطح پر ابھرا تھا۔

گاؤں کا یہ خرابہ مکمل گھروں، ایک پُل اور ایک چرچ پر مشتمل ہے، اور یہ اسی وقت سطح پر آتا ہے جب ڈیم کے مینٹی نینس کے لیے جھیل کو خالی کرایا جاتا ہے، اب اسے اگلے برس 2021 میں خالی کرایا جائے گا۔ کہا جا رہا ہے کہ اس اقدام سے اٹلی کی سیاحت میں ایک بار پھر جان پڑ جائے گی جو کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے تباہ ہو گئی ہے۔

گزشتہ مرتبہ جب یہ گاؤں سطح پر ابھرا تھا تو لاکھوں لوگ اسے دیکھنے کے لیے امنڈ پڑے تھے، اس بار بھی سیاحوں میں اس خبر سے ہل چل مچ گئی ہے، شہر کے سابق میئر ایلیو ڈومینیکو جارجی کی بیٹی لورینزا جارجی نے اس سلسلے میں فیس بک پر دعویٰ کیا ہے کہ باوثوق ذرایع نے کہا ہے کہ اگلے برس یہ گاؤں پھر سطح پر ابھرنے والا ہے، اس بار توقع ہے کہ ایک موسم گرما میں 10 لاکھ سے زائد سیاح اسے دیکھنے آئیں گے۔

واضح رہے کہ لورینزا جارجی واگلی ڈائی سوٹو نامی گاؤں میں پیدا ہوئی تھی، یہ وہ گاؤں ہے جہاں فیبرش ڈائی کریجین گاؤں کے لوگوں کو بسانے کے لیے منتقل کیا گیا تھا، اور ان کے گھر زیر آب چلے گئے تھے، اب یہ گھر 34 ملین کیوبک پانی کے نیچے ہیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں