The news is by your side.

’شہید ارشد شریف نمبرون صحافی تھا، تحقیقات ہونی چاہیے کس نے دھمکیاں دیں‘

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین و سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ شہید ارشد شریف پاکستان کا نمبر ون انویسٹی گیشن صحافی تھا انہیں شہید گیا اس پر تحقیقات ہونی چاہیے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان نے حقیقی آذادی مارچ کے شرکا سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہید ارشد شریف کو ملک چھوڑ کر کیوں جانا پڑا تحقیقات ہونی چاہے کہ کون تھے وہ لوگ جنہوں نے دھمکیاں دیں۔

انہوں نے کہا کہ ارشد شریف کو قتل کیا گیا اور پھر مجھ پر قاتلانہ حملہ ہوا، میں اپنے اوپر قاتلانہ حملے کی ایف آئی آر درج نہیں کرسکتا لیکن امید ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اس درخواست کو سنیں گے۔

’جب تک انصاف نہیں ہوگا ہم ایشین ٹائیگر نہیں بن سکتے‘

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ جب تک قانونی کی حکمرانی نہیں ہوگی پاکستان میں خوشحالی نہیں آسکتی، ماضی میں جھوٹ بولا گیا ایشین ٹائیگر بنادیں گے لاہور کو پیرس بنادیں گے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں جو بھی خوشحال ملک ہے وہاں قانونی کی حکمرانی ہے انصاف ہے ، جب تک انصاف نہیں ہوگا ہم ایشین ٹائیگر نہیں بن سکتے۔

عمران خان نے کہا کہ مجھے آئین حق دیتا ہے کہ میں نشاندہی کروں اور ایف آئی آر درج کرواؤں، جب میں مقدمہ درج نہیں کراسکتا تو عام آدمی پر کیا گزرتی ہوگی۔

’جانتا ہوں مجھ پر قاتلانہ حملہ کس نے کروایا‘

انہوں نے کہا کہ میں جانتا ہوں مجھ پر قاتلانہ حملہ کس نے کرایا تحقیقات ہونے دیں ہوسکتا ہے وہ میرا صرف الزام ہو۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ خوشحالی کی راہ میں رکاوٹ وہ قانون ہے جو طاقت ور اور کمزور کے لیے الگ الگ ہے، کوئی بھی آزادی پلیٹ میں نہیں دیتا جدوجہد سے چھیننی پڑتی ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ میں انشااللہ راولپنڈی میں شریک ہوں گا میرے وہاں پہنچنے سے پہلے ہی عوام باہر نکل رہی ہے۔

’ہم دوستی سب سے کرنا چاہتے ہیں لیکن غلامی کسی کی نہیں‘

انہوں نے کہا کہ ہم دوستی سب سے کرنا چاہتے ہیں لیکن غلامی کسی کی نہیں کرنا چاہے 26 سال سے یہی کہہ رہا ہوں دوستی سب سے مگر غلامی کسی کی نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ ہم چین، روس، امریکا سمیت ہر ممالک سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں