site
stats
پاکستان

عجیب ہے ڈرون حملہ ہوا اور روایتی مذمت بھی نہیں کی گئی،چوہدری نثار

اسلام آباد : سابق وزیرداخلہ چوہدری نثارنے کہا کہ عجیب ہے15  ستمبر کو ڈرون حملہ ہوا اور روایتی مذمت بھی نہیں کی گئی، ڈرون حملے ناقابل قبول ہیں، آزادی اور خودمختاری کیلئے چیلنج ہیں، دشمن ملک برکس اجلاس میں کامیاب ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے اپنی ہی حکومت پربرس پڑے اور کہا کہ عجیب ہے15ستمبرکوڈرون حملہ ہوااورروایتی مذمت بھی نہیں کی گئی،جس دن ڈرون حملہ ہواوزیراعظم امریکی سفیرسے ملے، ڈرون حملوں سے متعلق ایوان کا مؤقف بڑاواضح رہاہے، ڈرون حملے ناقابل قبول ہیں، آزادی اور خودمختاری کیلئے چیلنج ہیں۔

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ دنیا میں ہمارےدوست کم اوردشمن زیادہ ہیں وزیراعظم یہاں ہوتے توان سے پوچھتا اسمبلی میں معاملہ نہیں اٹھایا، ڈرون حملوں کےخلاف پاکستان کی آوازواضح اٹھنی چاہیےتھی، برکس اجلاس دوست ملک چین میں ہوا جس میں پاکستان کے خلاف قراردادتھی ، ہمارے سفارت کارسوئے رہے،دشمن ملک برکس اجلاس میں کامیاب ہوگیا۔

انھوں نے کہا کہ ہمیں دشمن ممالک کی سازشوں پرنظررکھناہوگی، جیرمی کوربن نے دنیا پر زور دیا کہ پاکستان کی عزت کرو ، دنیا سے کہتا ہوں پاکستان کی عزت کرو، وزیراعظم نےسفارت کاروں کااجلاس طلب کیاجواچھی بات ہے،سفارت کارملک کی عزت نفس کادفاع نہیں کرسکتے تو کس مرض کی دواہیں، ہمارےسفارت کار کیا کر رہے ہیں انہوں نے کیا لائحہ عمل اپنایا ہوا ہے،ہمارےسفارت کارسوئےہوئےہیں کوئی توجہ نہیں ہے۔


مزید پڑھیں : وزیراعظم اپنے بیان سے دنیا بھرمیں پاکستان کا تماشا نہ بنائیں، چوہدری نثار


سابق وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ جیرمی کوربن نے دنیا پر زور دیا کہ پاکستان کی عزت کرو ، دنیا سے کہتا ہوں پاکستان کی عزت کرو۔

برما کی صورتحال کے حوالے سے چوہدری نثار نے کہا کہ برما کی حکومت اورفوج روہنگیا مسلمانوں پرظلم میں شامل ہے، روہنگیامسلمانوں پرظلم صرف دہشت گردی نہیں نسل کشی ہے، عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کویورپ میں کتابھی مرتاہےتونظرآتاہے، عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کومسلمانوں پرظلم نظرنہیں آتا، معلوم ہے کہا جائے گا تنہا پاکستان کیا کرسکتا ہے، پاکستان جوکچھ تنہاکرسکتاہےکم سےکم وہ توکرلے۔

انکا کہنا تھا کہ پاکستان کو اوآئی سی کااجلاس بلاکرمعاملےکوسختی سےاٹھاناچاہیے، اوآئی سی کا ون پوائنٹ ایجنڈا روہنگیا مسلمان بلاکر اجلاس کراناچاہیے، روہنگیا مسلمانوں کےلیے ایک فنڈ قائم کرناچاہیے، روہنگیا مسلمانوں کے لیے قائم فنڈ میں ابتدائی رقم ارکان پارلیمان ڈالیں، ارکان پارلیمان کی ایک کمیٹی بنا کر بنگلادیش بھیجنی چاہیے، بنگلادیش اجازت نہیں دے گا تو وہ خود بے نقاب ہوں گے۔

سابق وزیرداخلہ نے کہا کہ برما میں مسلمانوں کیساتھ جو کچھ ہورہا ہے پاکستانی عوام بےچین ہیں،روہنگیامسلمانوں سےمتعلق ہماری طرف سےصرف قراردادکافی نہیں روہنگیامسلمانوں کیلئے خود، پبلک سیکٹر اور بڑےسرمایہ کاروں کے پاس جائیں، روہنگیامسلمانوں کیلئےمیرے ذہن میں اوربھی پروپوزل ہیں، اسپیکر روہنگیا مسلمانوں کیلئے تمام مسلم ممالک کے اسپیکر کو خط لکھیں اور اسپیکر صاحب مسلم ممالک کےاسپیکر سے مدد کی درخواست کریں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top