The news is by your side.

Advertisement

لندن: چیکرز پلان حکومت کی اجتماعی ناکامی ہے، بورس جانسن

لندن : سابق برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن نے وزیر اعظم تھریسامے پر تنقید کے نشتر چلاتے ہوئے کہا ہے کہ سنہ 2016 برطانوی عوام نے اپنی آزادی کے لیے بریگزٹ کو ووٹ دئیے تھے لیکن حکومت ان کی امید کو پورا نہیں کرسکی۔

تفصیلات کے مطابق برطانیہ کے سابق وزیر خارجہ بورس جانسن نے بریگزٹ کے حوالے سے تھریسامے کے تیار کردہ پلان پر نشتر چلاتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم کا چیکرز پلان حکومت کی اجتماعی ناکامی ہے جو تکلیف دہ ہے۔

سابق وزیر خارجہ نے ٹوری کانفرنس سے پہلے ہی تھریسامے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ چیکرز پلان مضحکہ خیز اور جمہوری تباہی پر مبنی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے رواں سال جولائی میں قیادت کے لیے مدد کی تھی، چیکرز پلان اخلاقی طور پر توہین آمیز ہے۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا تھا کہ برطانیہ کے سابق وزیر خارجہ بورس جانسن نے ابتداء میں چیکرز پلان کی حمایت کی تھی تاہم مستعفی کے بعد وہ تھریسا مے کی منصوبہ بندی کے خلاف ہوگئے اور اسے تباہ کن قرار دیا۔

بورس جانسن نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ تھریسامے کے چیکرز پلان کے ذریعے برطانیہ آدھا یورپی یونین اور آدھا یونین سے باہر ہوجائے گا جو صدیوں کی کامیابیوں سے انحراف ہوگا۔

بورس جانسن نے برطانوی خبر رساں ادارے میں تحریر کیے گئے کالم میں کہا تھا کہ شہریوں نے سنہ 2016 میں اپنی آزادی کے لیے ووٹ دیا تھا لیکن افسوس حکومت نے برطانوی شہریوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔

یاد رہے کہ برطانیہ کے سابق وزیر خارجہ بورس جانسن نے رواں ماہ کے اوائل میں برطانوی اخبار میں شائع ہونے والے کالم میں تھریسا مے کے نامناسب زبان استعمال کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیر اعظم تھریسا مے نے برطانوی آئین کو خودکش جیکٹ پہنا کر ریمورٹ برسلز کے ہاتھ میں تھما دیا ہے۔

سابق برطانوی وزیر نے کالم میں لکھا کہ تھریسا مے نے چیکر معاہدے کے ذریعے برطانیہ میں بلیک میلنگ کی سیاست کے لیے راشتہ کھول دیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں