The news is by your side.

Advertisement

چیف جسٹس پشاورہائیکورٹ جسٹس وقار احمد سیٹھ انتقال کرگئے

چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس وقار احمد سیٹھ علالت کے باعث انتقال کرگئے۔

ترجمان پشاور ہائیکورٹ نےجسٹس وقار احمد سیٹھ کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ چیف جسٹس کورونا کے مرض میں مبتلا تھے۔

چیف جسٹس پشاورہائیکورٹ کی طبیعت کچھ دنوں سےخراب تھی اور وہ کلثوم انٹرنیشنل اسپتال اسلام آباد میں زیرعلاج تھے۔

چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ وقار احمد سیٹھ کا شمار خیبرپختونخوا کے ان ججوں میں ہوتا ہے جنہوں نے انتہائی اہم معاملات میں فیصلے دیے اور وکلا ان فیصلوں کو ‘بولڈ’ سمجھتے تھے۔

چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک متوسط کاروباری خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنی تعلیم پشاور کے تعلیمی اداروں سے حاصل کی ہے۔ اسلامیہ کالج سے گریجویشن کی اور لا کالج پشاور یونیورسٹی سے پہلے قانون کی ڈگری حاصل کی اور پھر پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کیا۔ تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد انھوں نے 1985 میں عملی وکالت کا آغاز کیا۔

جسٹس وقار احمد سیٹھ 1990 میں ہائی کورٹ اور پھر 2008 میں سپریم کورٹ کے وکیل بنے۔ انھیں 2011 میں ایڈیشنل سیشن جج تعینات کیا گیا اور اس کے بعد وہ بینکنگ کورٹس سمیت مختلف عدالتوں میں تعینات رہے۔وقار احمد سیٹھ نے 2018 میں چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کے عہدے کا حلف لیا۔

پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

آئین شکنی کیس میں انہوں نے سابق صدر پرویزمشرف کو سزائے موت سنائی تھی جب کہ انہوں نے ریٹائرمنٹ کی عمر 63سال کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا، کے پی حکومت نے سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر60 سے بڑھا کر63سال کی تھی۔

جسٹس وقار سیٹھ اس تین رکنی بینچ کے سربراہ تھے جس نے سابق صدر پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں سزائے موت سنائی، 169 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں جسٹس وقار نے لکھا کہ پھانسی سے قبل پرویز مشرف فوت ہو جاتے ہیں تو ان کی لاش کو ڈی چوک لا کر تین دن تک لٹکائی جائے۔ تاہم جسٹس شاہد کریم نے اس نکتے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ قانون میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ تفصیلی فیصلہ سامنے آنے کے بعد ملک بھر میں اسے تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ٹی وی نہیں دیکھتا، اسپورٹس چینل پر کبھی ریسلنگ دیکھ لیتا ہوں

فیصلے کے اگلے روز مردان میں ویڈیو لنک کے ذریعے کیسز کی سماعت کے دوران سینئر وکیل معظم بٹ نے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ وقار سیٹھ سے مکالمہ کیا، معظم بٹ نے کہا سر آپ اچھے فیصلے کرتے ہیں، خراج تحسین کے مستحق ہیں۔

معظم بٹ نے کہا سخت حالات میں بھی آپ کے چہرے پر اطمینان اور سکون نظر آ رہا ہے۔ اس پر جسٹس وقار نے کہا کہ حالات کو کیا ہوا ہے، صبح آتے وقت تو حالات ٹھیک تھے۔ میں ٹی وی نہیں دیکھتا، اسپورٹس چینل پر کبھی ریسلنگ دیکھ لیتا ہوں۔

معظم بٹ ایڈووکیٹ نے کہا کہ ان حالات میں آپ کا مطمئن رہنا بڑی بات ہے۔ جسٹس وقار سیٹھ نے کہا کہ آپ نے بھی تو کچھ نہیں کہنا؟ اس پر معظم بٹ نے کہا نہیں میں کچھ نہیں کہتا، صرف آپ کو خراج تحسین پیش کرنے آیا ہوں۔

جسٹس وقار احمد سیٹھ کے خلاف ریفرنس دائر

سابق صدرجنرل (ر) پرویزمشرف کی لاش تین دن تک ڈی چوک پرلٹکانےکے فیصلے پرجسٹس وقاراحمد سیٹھ کے خلاف ریفرنس چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل کوارسال کیا گیا۔

ریفرنس محموداخترنقوی کی جانب سےارسال کیاگیا جس میں کہا گیا کہ مشرف سے متعلق جسٹس وقاراحمد سیٹھ کافیصلہ غیر قانونی، غیرآئینی، غیراسلامی،غیرانسانی اورمکمل طورپر بدنیتی و تعصب پرمبنی ہے۔

ریفرنس میں استدعا کی گئی کہ فیصلےکو کالعدم قراردے کرجسٹس وقاراحمدسیٹھ کے خلاف کارروائی کی جائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں