The news is by your side.

Advertisement

چین کا اگلے ماہ کرونا وائرس ویکسینز متعارف کرانے کا اعلان

بیجنگ: چین نے ایک ایسے موقع پر جب دنیا بھر میں نئے کرونا وائرس کے متاثرین کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے ماہ ویکسینز متعارف کرانے والا ہے۔

تفصیلات کے مطابق چین نے کہا ہے کہ اگلے ماہ اپریل سے کرونا وائرس کے لیے چند ویکسینز باقاعدہ طور پر طبی یا ایمرجنسی استعمال کے لیے دستیاب ہوں گی۔ یہ اعلان ایسے وقت کیا گیا ہے جب نہایت مہلک وائرس COVID 19 اب تک 103 ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے، اور متاثرین کی تعداد ایک لاکھ 6 ہزار 203 ہو چکی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق چین کے سائنس دان 5 ٹیکنالوجیز کا بہ یک وقت استعمال کرتے ہوئے جسم کو وائرس سے محفوظ رکھنے والی مصنوعات تیار کرنے میں ہمہ تن مصروف ہیں۔

چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن کے ٹیکنیکل ڈویلپمنٹ اینڈ ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر ژینگ ژنگوے نے میڈیا کو بتایا کہ امید ہے کہ اپریل تک چند ویکسینز کلینکل یا ایمرجنسی استعمال کے مرحلے میں داخل ہو جائیں گی، کرونا ایک نیا وائرس ہے اس لیے ہم مختلف تجربات کے ذریعے اسے مسلسل سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں، ویکسینز کی تیاری کے لیے 8 رکنی ایک خصوصی ٹیم بنائی گئی ہے۔

کرونا بے قابو، 103 ممالک لپیٹ میں، 106,203 متاثر، اٹلی میں 16 ملین لوگوں کا لاک ڈاؤن

یہ ماہرین پانچ مختلف طریقوں سے ویکسینز تیار کر رہے ہیں، جن میں ایک طریقہ غیر فعال ویکسین کا ہے، جس میں مرے ہوئے جراثیم کا استعمال کیا جاتا ہے، جو جسم میں جا کر مرض کے خلاف اینٹی باڈی پیدا کر دیتا ہے۔ دوسرا طریقہ سب یونٹ ویکسین کا ہے جس میں جینیاتی انجینئرنگ کے ذریعے اسپائک پروٹین (S protein) کی نقل تیار کی جاتی ہے جو انسانی جسم میں معالجاتی مدافعتی رد عمل کو متحرک کر دیتی ہے۔

تیسرا ممکنہ طریقہ نیوکلک ایسڈ امونائزیشن پر مشتمل ہے، جس میں دو ذیلی اقسام شامل ہیں: ایک mRNA ویکسین اور دوم DNA ویکسین۔ اس طریقہ کار میں تیار کردہ ایس پروٹین انسانوں میں داخل کیا جاتا ہے، تاکہ انسانی جسم مزید ایس پروٹین پیدا کر سکے، اور اس طرح جس میں جراثیم کے خلاف اینٹی باڈیز بننے لگتی ہیں۔

دوسرے دو طریقے کیریئر ویکسینز پر مشتمل ہیں، ایک میں اڈینو وائرسز کا استعمال کیا جا رہا ہے اور دوسرے میں انفلوئنزا وائرسز کا۔ adeno viruses پہلی بار اڈینوئڈ ٹشو میں دریافت ہوئے تھے، اور یہ ڈی این اے وائرسز کے گروپ کا کوئی بھی وائرس ہے، ان میں سے اکثر وائرس نظام تنفس کے امراض کی وجہ بنتے ہیں۔

چینی حکام کا کہنا ہے کہ ان پانچوں قسم کی ویکیسنز کے جانوروں پر تجربات جاری ہیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں