The news is by your side.

Advertisement

پاکستان اور چین نے سی پیک پر امریکی اعتراض مسترد کردیا

بیجنگ : پاکستان اور چین نے سی پیک پر امریکی اعتراض مسترد کردیا، چینی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اقتصادی راہداری منصوبہ معاشی ترقی کا ضامن ہے اور اس منصوبے سے کسی ملک کی علاقائی خود مختاری متاثر نہیں ہوگی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا سے گفتگو کے دوران اقتصادی راہداری منصوبے پر امریکی اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کیا۔ وزیرخارجہ نے کہا کہ ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کی اقوام متحدہ نے بھی حمایت کی ہے۔

چینی وزارت خارجہ نے بھی اپنے بیان میں واضح کیا کہ متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ اقتصادی راہداری معاشی تعاون کا منصوبہ ہے جس سے کسی ملک کی علاقائی خود مختاری متاثر نہیں ہوگی چنانچہ اس کو ہدف تنقید بنانا مناسب عمل نہیں۔

وزارت خارجہ نے کہا کہ ون بیلٹ اینڈ روڈ فورم میں 130 ممالک اور 70 عالمی اداروں نے شرکت کی تھی جو کہ ترقی اور خوشحالی کا زینہ ہے اور اس پر تنقید کرنے والے تعمیر و ترقی کے خواہاں نہیں ہیں۔

خیال رہے کہ امریکا کی جانب سے ون بیلٹ ون روڈ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے معاشی اجارہ داری قائم کرنے اور دیگر ممالک کی خود مختاری کے خلاف قرار دیا تھا۔

اسی ضمن میں پاکستانی دفتر خارجہ نے امریکی وزیر دفاع جیمس میٹ کے اس بیان کی مذمت کی ہے جس میں امریکی وزیر دفاع نے اقتصادی راہداری کو متنازع منصوبہ قرار دیا ہے اور کہا کہ یہ منصوبہ گلگت بلتستان سے گزرے گا اور یہ خطہ متنازع خطہ ہے، بھارت کے مطابق یہ خطہ مقبوضہ جموں اینڈ کشمیر کا حصہ ہے پاکستان کا نہیں۔

دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کا علاقہ متنازع نہیں، دنیا بھارت کی جانب سے کشمیریوں پر جاری مظالم کا نوٹس لے جہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں مسلسل کئی دہائیوں سے جاری ہیں۔

سی پیک پارلیمنٹری کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین نے بھی امریکی وزیر دفاع کے بیان کی مذمت کی ہے۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں