site
stats
سائنس اور ٹیکنالوجی

خبردار! آسمانی محل زمین پر گرنے والا ہے

Chinese space station

تجسس اور سفر ہمیشہ سے انسان کی فطرت کا خا صہ رہا ہے ، جب کبھی ا س نے کرۂ ارض کے کسی نئےخطے کو دریافت کیا‘ یا نئی دنیاؤں میں بسیرا کرنے کا ارادہ باندھا تو اگلا مرحلہ وہاں مستقل ٹھکانا یا رہائش بنانے کا آیا ۔ اسی پر تجسس فطرت نے ا سے خلا کی بے کراں وسعتوں میں بھی جا پہنچایا اور ” چاند پر پہلے قدم” کی صورت میں جب سائنسدانوں کو اولین کامیابی حاصل ہوئی تو اس کے بعد مریخ مشن شروع کیا گیا ۔

اس مشن پر تحقیق کے لیے انہوں نے شدت سے خلا میں ایک گھر کی ضرورت محسوس کی ، اور یوں کم درجے کے مدار میں پہلے’بین الاقوامی خلائی سٹیشن ‘ کا قیام عمل میں آیا جسے دنیا کی پانچوں بڑی خلائی ایجنسیاں ایک طویل عرصےسے خلا میں تحقیق اور دیگر سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں ۔ مگر باہمی تعاون کے باوجود ان تمام سپیس ایجنسیوں نے مختلف مقامات پر اپنے علیحدہ خلائی مراکز بنانے پر بھی کام جاری رکھا اور روس کے بعد چین نے بھی 2011میں اپنا خلائی مرکز’آسمانی محل ‘ کے نام سےتعمیر کیا ۔ جس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ یہ چین کی سائنسی عظمت کا نشان ثابت ہوگا اور جلد ہی چین خلا میں اپنی حکمرانی قائم کرلے گا ۔

سکائی لیب سپیس سٹیشن

لیکن خلائی مراکز یا تحقیقاتی لیبارٹریز وقتا ََ فوقتا ََ رونما ہونے والے حادثات کے باعث سائنسدانوں کے علاوہ عام افراد کے لیے بھی درد ِ سر بنتے رہے ہیں۔ اس سلسلے میں پہلا واقعہ 1979 میں رونما ہوا جب ناسا کا 77 ٹن ’سکائی لیب سپیس سٹیشن ‘ بے قابو ہوتے ہوئے مغربی آسٹریلیا کے قریب ’پرتھ‘ میں زمین سے آٹکرایا‘ خیر یہ حادثہ اس لیے زیادہ خطرناک ثابت نہیں ہوا کہ گرنے والے ٹکڑوں سے اس علاقے میں جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا ۔ اس کے بعد 1991 میں سوویت یونین کا ’سویوت سیون ‘ خلائی مرکز تکنیکی خرابی کے باعث تباہ ہوا اور اس کا ملبہ برمودہ ، ارجنٹینا کے قریب زمین پر گرا ۔

ان حادثات کے بعد سائنسدانوں نے خلائی مراکز کی تعمیر و نقائص پر خصوصی توجہ دی اور ایک طویل عرصےسے اس طرح کا کوئی اور حادثہ رونما نہیں ہوا تھا ۔ مگر حال ہی ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہر ِ فلکیاتی طبیعات ڈاکٹر جوناتھن میک ڈو ویل نے خبردار کیا ہے کہ چین کا ’آسمانی محل ‘ نامی خلائی مرکز اکتوبر 2017 سے اپریل 2018 کے درمیان کسی بھی وقت زمین بوس ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر جوناتھن میک ڈو ویل

یہ خلائی مرکز 2016 کے اواخر سے سائنسدانوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے مگر چین کی خلائی ایجنسی نے گزشتہ ماہ اقوامِ متحدہ کی تنظیم برائے پر امن خلائی مشنز کو آگا ہ کیا ہے کہ ان کا خلائی مرکز سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے جس کے باعث یہ سٹیشن بے قابو ہو گیا ہےاور سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ کسی کو بھی معلوم نہیں کہ یہ تباہی کس جگہ نازل ہوگی۔ لیکن چینی سائنسدان صورتحال سے ہر گز غافل نہیں ہیں اور وہ یو این او کو اس کےگرنے کے باعث جانی یا مالی نقصان کے امکان سے اپ ڈیٹ کرتے رہیں گے ۔

چین نے 2011ءمیں جب اپنا خلائی سٹیشن خلاءمیں بھیجا تو اس کے عزائم بہت بلند تھے کیونکہ وہ خلا میں ایک بہت بڑا سپیس کمپلیکس تعمیر کرنا چاہتا تھا۔ لیکن بدقسمتی سے اس کا خلائی سٹیشن تیان گانگ ۔1 ستمبر 2016ء کے بعد سےبے قابو ہوگیا اور اب ماہرین کا خیال ہے کہ 8.5 ٹن وزنی یہ خلائی سٹیشن دو سے تین ماہ میں سطح زمین سے آٹکرائے گا۔ سائنسدان اس کے زمین سے آٹکرانے کے صحیح دن و وقت کے بارے میں کوئی اندازہ لگانے سے اب تک قاصر ہیں اور نہ ہی مصدقہ طور پر کچھ کہا جاسکتا ہے کہ اس کا ہدف کونسا خطہ بنے گا۔ کیونکہ موسمی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث آخری وقت میں بھی اس کے گرنے کی جگہ تبدیل ہو سکتی ہے اور عین ممکن ہے کہ اگر ایشیاء میں گرنے کا امکان ہو تو اس کا ملبہ افریقہ میں جا گرے۔

کافی عرصے سے تکنیکی خرابی کے باعث اس خلائی سٹیشن کا مدار رفتہ رفتہ چھوٹا ہوتاجارہا تھا اور زمین کی جانب بڑھنے سے اس کی رفتار میں بھی اضافہ ہوا ۔ ڈاکٹر جوناتھن میک ڈوول کا کہنا ہے کہ ”اب اس کی پیریگی 300 کلومیٹر سے کم رہ گئی ہے اور یہ کثیف ماحول کی جانب بڑھ رہا ہے۔ واضح رہے کہ فلکیات کی اصطلاح میں پیریگی کسی بھی سٹیلائٹ کے اس مقام کو کہتے ہیں جو زمین سے سب سے نزدیک ہوتا ہے لہذا ٰخدشہ ہے کہ یہ خلائی سٹیشن اس سال کے اواخر یا اگلے سال کے اوائل میں کسی بھی وقت زمین پر آ گرے گا۔لیکن جب تک یہ زمین کے ماحول میں داخل ہوگا تو زیادہ رفتار اور حرارت کے باعث اس کا بڑا حصہ جل کر ٹکڑوں میں بدل جائے گا لیکن اس کے کچھ ٹکڑے اتنے بڑے ہو سکتے ہیں جن کا وزن اندازا ََ سو کلوگرام تک ہوگا جو لا محالہ زمین پر تباہی پھیلانے کا سبب بنیں گے۔

سیٹلائٹ گرنے کے مناظر – فائل فوٹو

آسمانی محل نامی یہ خلائی لیبارٹری چین نے 2011 میں قائم کی تھی جس کے بعد سے متعدد خلائی مشن یہاں بھیجے گئے جن میں سب سے زیادہ شہرت 2012 کے “مینڈ مشن “کو حاصل ہوئی جس میں پہلی چینی خاتون خلا باز ’لی یینگ‘ کو خلا میں جانے کا اعزاز حاصل ہوا۔ اس کے بعد سے نہ صرف چین بلکہ جنوبی ایشیاء کے ممالک خاص طور پر پاکستان سےخلائی سفر اور تحقیق میں دلچسپی رکھنے والے افراد بہت پرجوش تھے کیونکہ ناسا اور یورپین سپیس ایجنسی کی جانب سے خلائی مشنز میں عموما ََ مقامی خلا بازوں کو بھیجا جاتا ہے اور ایشیائی ممالک کے ہزاروں قابل اور با صلاحیت افراد وسائل اور ذرائع نا ہونے کے باعث خلا کے سفر کا صرف خواب ہی دیکھ سکتے ہیں ۔ مگر محض پانچ برس میں بے قابو اور ناکارہ ہو کر زمین بوس ہو جانے کے بعد پیدا ہونے والی نئی صورتحال نے چینی سائنسدانوں کے علاوہ بھارت اور دیگر ایشیائی ممالک کے لیے کئی سوالیہ نشان کھڑے کر دیئے ہیں جو مستقبل میں اپنا خلائی سٹیشن بنانے کے لیے بہت پر عزم تھے۔

انڈین سپیس ایجنسی کے چئیرمین اے ایس کرن کمار کے مطابق ’’ہم مستقبل میں اپنا سپیس سٹیشن بنانے چاہتے ہیں لیکن فی الوقت ہماری ترجیحات کچھ اور ہیں‘‘۔ لا محالہ چین کے خلائی مرکز کی مختصر عرصے میں تباہی کے بعد انڈین سائنسدان کوئی نیا رسک لینے سے کترا رہے ہیں اور اس امر سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ابھی انڈین سپیس ایجنسی کے پاس ابھی اتنے وسائل اور بڑا بجٹ بھی نہیں ہے ۔

بلاشبہ اس وقت سب سے زیادہ اہمیت کا حامل یہ سوال ہے کہ وہ منصوبہ جس سے چین کو بے انتہا ء توقعات وابستہ تھیں اور بڑے ارمانوں اور کثیر بجٹ کے ساتھ جس کا آغاز کیا گیا تھا ، محض پانچ سال کی مختصر مدت میں تباہی کا شکار کیوں ہوا ؟۔

یقینا َََمستقبل قریب میں اس حوالے سے کئی تکنیکی نکات سامنے آئیں گے ، لیکن کیا اس ’’آسمانی محل ‘‘ کے گرنے سے زمین کے باشندوں پرکوئی آفت نازل ہوگی فی الوقت اس کے بارے میں کچھ بھی وثوق سے کہنا ممکن نہیں ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top