The news is by your side.

Advertisement

ناک کی جھلی میں سوزش

موسمی تبدیلیاں، فضائی آلودگی یا گردوغبار کی وجہ سے لاحق ہونے والی نزلے کی شکایت سے عموماً چند روز میں نجات مل جاتی ہے، لیکن بعض لوگ نزلے کے دائمی مسئلے کا شکار ہوتے ہیں جسے عام طور پر ‘‘کیرا’’ کہتے ہیں۔

یہ اصل میں ناک کی جھلی کی سوزش کا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے متاثرہ فرد کو مختلف تکالیف اور الجھنوں کا سامنا رہتا ہے۔ کیرا میں مبتلا کوئی بھی شخص اکثر  جسم  میں ہلکے درد، سستی اور  غنودگی کی شکایت کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ سر کا بھاری پن بھی اسے بے چین  رکھتا ہے۔ موسم یا کسی وجہ سے اگر اس طبی کیفیت میں شدت آجائے تو آنکھوں میں سرخی ظاہر ہونے لگتی ہے اور ناک سے رطوبت خارج ہوتی ہے۔

طبی تحقیق بتاتی ہے کہ  سردی  ہی نہیں تیز دھوپ اور آب و ہوا کی تبدیلی سے بھی نزلے کی شکایت پیدا ہوسکتی ہے۔ اس کے بعد گرد و غبار اور فضا میں موجود مختلف کثافتیں بھی ہمارے نظامِ تنفس کو متاثر کرتی ہیں اور اس کا آغاز نزلے کی صورت میں ہوتا ہے۔ ماہرین کی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ناک کو متأثر کرنے  والا وائرس  اصل میں  سرد ماحول میں پھلتا پھولتا ہے اور اس سے پیدا ہونے والی طبی پیچیدگی کو ہم زکام کہتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ سرد ماحول میں انسان کا مدافعتی نظامکم  زور  پڑ جاتا ہے اور ناک میں داخل ہونے والے وائرس کو پھلنے پھولنے کا موقع مل جاتا ہے۔ تاہم موسمی اثرات کے علاوہ مختلف اشیا کی وجہ سے الرجی کی شکایت بھی نزلے کا باعث بنتی ہے اور یہ دائمی مسئلہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

دائمی نزلے میں مبتلا افراد کی آواز بھرائی ہوئی محسوس ہوتی ہے اور انھیں بار بار ناک سے رطوبت صاف کرنا پڑتی ہے۔ اس نزلے کو طبی سائنس نے Chronic Rhinitis کا نام دیا ہے جسے ہم سادہ زبان میں ناک کی جھلی میں سوزش کہہ سکتے ہیں۔

اس طبی مسئلے کے شکار افراد کو  اکثر بلغم رہتا  ہے اور  چھینکیں آتی ہیں جس کے ساتھ مریض کو ناک میں سرسراہٹ یا خارش محسوس ہونے لگتی ہے۔ ایسے مریض بے چینی سے ناک مسلتے نظر آتے ہیں۔ دائمی نزلے کی وجہ سے متاثرہ  فرد کے بال بھی جھڑنے لگتے ہیں اور کم عمری میں سفید بھی ہوجاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس نزلے کا اثر بینائی اور  یادداشت پر بھی پڑسکتا ہے۔ ایسے مریضوں کو کسی ماہر اور مستند معالج سے سال میں کم از کم دو بار اپنا طبی معائنہ ضرور کروانا چاہیے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں