The news is by your side.

Advertisement

کروناویکسین: دنیا بھر سے وبا کے خاتمے کی نئی امید

لندن: آکسفورڈ یونیورسٹی میں کرونا ویکسین پراجیٹ کی سربراہی کرنے والی خاتون سائنس دان نے کہا ہے کہ ممکنہ دوا وبائی مریضوں کو طویل مدتی تحفظ فراہم کرے گی۔

تفصیلات کے مطابق اپنے ایک بیان میں پروفیسر سارا گلبرٹ کا کہنا تھا کہ کروناویکسین کے تجربات سے ہمیں مثبت نتائج مل رہے ہیں، آزمائش کے دوران مریضوں میں مدافعتی نظام بھی درست پایا گیا، امید ہے ممکنہ ویکسین وبا کے شکار لوگوں کو طویل مدتی تحفظ فراہم کرے گی۔

انہوں نے بتایا کہ ویکسین کے تجربے کے دوران صحت یاب مریضوں میں ’اینٹی باڈیز‘ کی مقدار تین گنا بڑھوتی دیکھی گئی، ممکنہ طور پر ویکسین مریضوں میں قوت مدافعت کا نظام بھی درست رکھے گی۔

ایک اور ویکسین سے متعلق اچھی خبر آ گئی

ان کا کہنا تھا کہ ویکسین کی انسانی آزمائش کے تیسرے مرحلے کے لیے 8 ہزار رضاکاروں کی خدمات حاصل کی جاچکی ہیں، ہم بہت خوش ہیں کہ ہم نے کووڈ 19 سے تحفظ کے لیے بہترین مدافعتی ردعمل کو دیکھا۔

خاتون سائنس دان نے مزید کہا کہ اس ویکسین کی انسانی آزمائش کے تیسرے مرحلے میں دیکھا جائے گا کہ اٹھارہ سال سے زائد عمر کے متعدد افراد پر ویکسین کس طرح کام کرتی ہے اور کس حد تک لوگوں کو کووڈ 19 سے بچانے میں مددگار ہے۔ خیال رہے کہ وبا کی نئی لہر کے پیش نظر تجربات کا مرحلہ بھی تیز کیا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ دنیا بھر میں 100 سے زائد کمپنیاں کرونا ویکسین کی تیاری پر کام کررہی ہیں، جن میں سے کچھ پہلے مرحلے جبکہ کچھ دوسرے مرحلے میں ہیں۔ چند کمپنیاں ایسی ہیں جنہوں نے کلینکل ٹرائل اور جانوروں پر تجربات کرلیے اور اب انہیں انسانوں پر آزمایا جائے گا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں