The news is by your side.

Advertisement

ایک اور ویکسین سے متعلق اچھی خبر آ گئی

واشنگٹن: اَنوویو فارما سیوٹیکلز کی تیار کردہ تجرباتی کرونا وائرس ویکسین کے نتائج انسانوں پر ابتدائی آزمائشی مرحلے میں امید افزا ثابت ہوئے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق انسانی آزمائش کے ابتدائی مرحلے کے دوران انوویو کی یہ ویکسین محفوظ اور مؤثر ثابت ہو گئی ہے، گزشتہ روز کمپنی نے اپنے بیان میں کہا کہ ویکسین نے 36 میں سے 34 صحت مند رضاکاروں میں امیون رسپانس (بیماری کے خلاف قوت مدافعت) کامیابی سے پیدا کیا۔

یہ ویکسین ان 17 ویکسینز میں سے ایک ہے جو ٹرمپ انتظامیہ کے شروع کردہ آپریشن وارپ اسپیڈ پروگرام کا حصہ ہیں، کمپنی نے بتایا کہ جن صحت مند رضاکاروں پر ویکسین کی آزمائش کی گئی ہے ان کی عمریں 18 سے 50 سال کے درمیان تھیں، تاہم کمپنی نے مزید تفصیل بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اس آزمائش کا مکمل ڈیٹا بعد میں میڈیکل جنرل میں شایع کیا جائے گا۔

چین کی بڑی کامیابی، فوج کے لیے کرونا ویکسین استعمال کرنے کی منظوری

وال اسٹریٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ ویکسین سے متعلق جو ابتدائی ڈیٹا فراہم کیا گیا ہے اس سے ویکسین کے اثرات کو اچھی طرح سے نہیں سمجھا جا سکتا کیوں کہ یہ بہت مختصر ہے، واضح رہے کہ اس تحقیق کے دوران قوت مدافعت کو ویکسین کی اُس صلاحیت کے پیمانے پر جانچا گیا جو بائنڈنگ اینٹی باڈیز یا وائرس کو بے اثر کرنے والی اینٹی باڈیز پیدا کرتی ہے، یہ صلاحیت T خلیے کا رسپانس بھی پیدا کرتی ہے، جب کہ اس کے 2 میٹرکس ایک کامیاب ویکسین کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔

تجزیہ کار پائپر سینڈلر کا کہنا تھا کہ کوئی نتیجہ برآمد کرنے سے قبل ہم اِن پیمانوں پر مذکورہ ڈیٹا کو دیکھنا چاہیں گے۔ یہ دیکھنے کے لیے کہ انسانوں میں یہ ویکسین وائرس کو روک سکتی ہے، کمپنی کا بھی کہنا ہے کہ ویکسین کے مؤثر ہونے کو جانچنے کے لیے موسم گرما میں ٹرائلز کا دوسرا مرحلہ شروع کیا جائے گا۔

ادھر امریکی ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے کہا ہے کہ ایک مؤثر کرونا وائرس ویکسین کے لیے ضروری ہے کہ یہ 50 فی صد افراد میں بیماری کو روکے یا اس کی شدت کو کم کرے۔ انوویو کمپنی کا کہنا تھا کہ ابتدائی آزمائش کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ ویکسین محفوظ ہے یا نہیں، جانچ کے دوران 10 فی صد افراد میں سائیڈ افیکٹس (مضر اثرات) رونما ہوئے تاہم یہ صرف انجیکشن کے مقام پر نمودار ہونے والی سرخی تک محدود تھے۔

کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جوزف کِم نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ویکسین کی آزمائش کامیاب رہی، کو وِڈ 19 کے لیے تیار کی جانے والی ویکسینز میں ممکن ہے کہ یہ سب سے زیادہ محفوظ ثابت ہو۔

Comments

یہ بھی پڑھیں