The news is by your side.

پائلٹس کی مسلسل ڈیوٹی حادثے کا باعث بن سکتی ہے، سول ایوی ایشن

کراچی : پی آئی اے کی جانب سے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کے معاملے پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، سی اے اے نے پائلٹس کی ڈیوٹی کے حوالے سے سخت ایکشن لے لیا۔

تفصیلات کے مطابق ہوابازوں اور فضائی میزبانوں سے مقررہ وقت سے زیادہ ڈیوٹی کرائے جانے کے معاملہ پر سول ایوی ایشن اتھارٹی نے صورتحال کا سختی سے نوٹس لیا ہے۔

اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ پی آئی اے انتظامیہ کو پائلٹس کی ڈیوٹی کے اوقات کار میں کمی کرنے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔

مذکورہ ہدایات سی اے اے کے ڈائریکٹر فلائٹ اسٹینڈرڈ کے دستخط سے جاری کی گئیں، مراسلے میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر مبنی گذشتہ سات سال کے اعداد و شمار بھی منسلک کئے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پائلٹس کی ڈیوٹی اوقات کار کے حوالے سے سی اے اے کے اے این او کی خلاف ورزی کئی بار قومی ایئرلائن کی جانب سے کی گئی۔

سول ایوی ایشن کے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ انتظامیہ ہدایت پر پی آئی اے پائلٹس نے دیگر آپریٹرز کے مقابلے میں مقررہ اوقات سے کہیں زائد ڈیوٹی انجام دی۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق بین الاقوامی ایوی ایشن آرگنائزیشن کی خلاف وزری کرتے ہوئے پی آئی اے نے ایک سال کے دوران 55پروازوں میں کپتانوں سے بارہ گھنٹوں سے زائد ڈیوٹی کرائی گئی۔

اس کے علاوہ فضائی میزبانوں سے بھی سولہ گھنٹے سے زائد ڈیوٹی کرائی جارہی ہے جس کے باعث پی آئی اے انتظامیہ عالمی ہوا بازی قوانین کی مسلسل خلاف ورزی کی مرتکب ہو رہی ہے۔

مراسلے کے مطابق پائلٹس کے مسلسل ڈیوٹی کرنے سے ان کی کارکردگی شدید متاثر ہوئی ہے ہوا بازوں کی مسلسل ڈیوٹی کے باعث سیفٹی کو بھی خطرات لاحق ہیں۔

سول ایوی ایشن کے جاری کردہ خط کے مطابق ہوا بازوں کی ڈیوٹی سے متعلق ایس او پیز واضح ہیں، قومی ایئر لائن انتظامیہ اس پریکٹس کا فوری طور پر سخت نوٹس لیں۔

نوٹس نہ لئے جانے پر جاری پریکٹس کسی بھی وقت ناخوشگوار صورتحال کا سبب بن سکتی ہے، پی آئی اے ترجمان کے مطابق ناگزیر صورتحال میں پائلٹس کی اضافی ڈیوٹی سی اے اے سے حاصل کردہ اجازت کے تحت کرائی جاتی ہے۔

سات برس کے دوران سی اے اے کی نشان کردہ پروازوں کی تعداد ایئرلائن کی آپریٹ کردہ پروازوں کی کل تعداد کا محض 35فیصد ہے۔

پی آئی اے ترجمان کے مطابق اضافی ڈیوٹی کیلئے سی اے اے سے حاصل اجازت کے استعمال سے حتی المقدورگریز کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

ذرائع کے مطابق پی آئی اے میں فضائی میزبانوں سے بھی سولہ گھنٹے سے زائد ڈیوٹیاں لی جارہی ہیں جو کہ قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں