The news is by your side.

Advertisement

چیف جسٹس کراچی پہنچ گئے، نقیب قتل سمیت اہم کیسز کی سماعت کریں‌ گے

کراچی:‌چیف جسٹس ثاقب نثار سپریم کورٹ کے سینئر ججز کے ساتھ کراچی پہنچ گئے. کل وہ اہم کیسز کی سماعت کریں‌ گے.

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آج کراچی پہنچے ہیں. سپریم کورٹ کے جج جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس مشیرعالم،جسٹس منظوراحمد،جسٹس اعجازافضل بھی ان کے ہمراہ ہیں.

کل چیف جسٹس ثاقب نثارکی سربراہی میں لارجربینچ اہم مقدمات کی سماعت کرے گا۔ بینچ نمبرایک میں جسٹس فیصل عرب اورجسٹس سجادعلی شاہ شامل ہوں‌ گے.

اس دوران سندھ پولیس کی بھرتیوں میں کرپشن کی درخواستوں کی سماعت ہوگی، نقیب اللہ قتل کیس کے ازخود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس چیمبرمیں کریں گے. بینچ نمبر2 میں جسٹس آصف سعید، جسٹس مشیرعالم، جسٹس منظوراحمد شامل ہوں. بینچ نمبر2 سزاؤں اور بریت کےخلاف اپیلوں پر سماعت کرے گا.

بینچ نمبر 3 جسٹس اعجازافضل، جسٹس گلزاراحمد، جسٹس عمرعطا بندیال پرمشتمل ہوگا، جو 3 پینتیس ہزاررفاہی پلاٹوں پر قبضوں کی درخواست پر سماعت کرے گا.


سرکاری فنڈزسے ذاتی تشہیر، چیف جسٹس نے تفصیلات طلب کرلیں


واضح رہے کہ نقیب قتل کیس میں‌ مرکزی ملزم راؤ انوار تاحال مفرور ہے اور پولیس اور سیکیورٹی نافذ کرنے والے ادارے سابق ایس ایس پی ملیر کو گرفتار کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں.

یاد رہے کہ گذشتہ دنوں سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت ہوئی، جس کے دوران چیف جسٹس نے بتایا تھا کہ راؤانوار کا ایک اور خط ہمیں ملا ہے، خط میں ملزم نے بینک اکاؤنٹس کھولنے،اور میڈیا سے رابطے کی اجازت مانگی ہے۔


نقیب اللہ قتل کیس، راؤ انوار کا ایک اور خط سپریم کورٹ کو موصول


واضح رہے 13 جنوری کو ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی سربراہی میں پولیس ٹیم نے شاہ لطیف ٹاؤن میں پولیس مقابلہ کا دعویٰ‌کیا تھا. ٹیم کا موقف تھا کہ خطرناک دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے اس کارروائی میں‌ پولیس نے جوابی فائرنگ کرتے ہوئے چار ملزمان کو ہلاک کیا تھا۔ ہلاک ہونے والوں میں نوجوان نقیب اللہ بھی شامل تھا۔

البتہ سوشل میڈیا پر چلنے والی مہم کے بعد اس واقعے کے خلاف عوامی تحریک شروع ہوئی، جس کے نتیجے میں‌ پولیس مقابلے کی تحقیقات شروع ہوئیں، ایس ایس پی رائو انوار کو عہدے سے معطل کرکے مقابلہ کو جعلی قرار دے گیا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں