تازہ ترین

پاکستان کو آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر قرض پروگرام کی توقع

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ...

اسرائیل کا ایران پر فضائی حملہ

امریکی میڈیا کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آرہا...

روس نے فلسطین کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت دینے کی حمایت کردی

اقوام متحدہ سلامتی کونسل کا غزہ کی صورتحال کے...

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کو خط

پشاور: چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ محمد ابراہیم خان نے چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو سپریم کورٹ میں ججز کی تقرری سے متعلق خط لکھ دیا۔

خط میں چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے لکھا کہ سپریم کورٹ میں ججز کی تقرری میں من مانی، امتیازی سلوک اور جانبداری پر بھاری دل کے ساتھ خط لکھ رہا ہوں،  میں یہ معاملہ آپ کی توجہ میں لاتا ہوں۔

جسٹس محمد ابراہیم خان نے لکھا کہ  سپریم کورٹ میں 4 آسامیاں تھیں تاہم بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس نعیم اختر افغان کو تعینات کر کے ایک آسامی پُر کی گئی، مایوسی ہوئی جب معلوم ہوا کہ ایک جج اور وہ بھی آپ کے صوبے سے تعینات کیا گیا۔

انہوں نے لکھا کہ جسٹس نعیم اختر افغان کیلیے حقیقی طور پر خوش ہوں، سنیارٹی، اہلیت اور دستیابی کے باوجود میرے نام پر کیوں غور نہیں کیا گیا، پاکستان کی تمام ہائی کورٹس کے چیف جسٹس میں دوسرا سینئر ترین چیف جسٹس ہوں، علاوہ ازیں جوڈیشل کمیشن اور سپریم جوڈیشل کونسل کا رکن بھی ہوں۔

خط میں ان کا کہنا تھا کہ توقع تھی سپریم کورٹ کے جج کے طور پر تقرری کیلیے فہرست میں شامل کیا جائے گا، سپریم کورٹ کے جج کے طور پر موزوں نہ پایا جاتا تو فیصلے کو خوشی سے قبول کر لیتا، کیسز کے بیک لاگ کو دیکھتے ہوئے خیال تھا آسامیوں کو پُر کرنے کیلیے پابندی ہوگی۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے لکھا کہ ٹیکس پیئرز توقع کرتے ہیں کہ آسامیاں فوری پُر کی جائیں تاکہ عدالت بھرپور کام کرے، انصاف کی فراہمی کیلیے تندہی سے کام کرنا فرض ہے، ایک آسامی پر تقرری کے فیصلے نے پریشان اور حقیقی جوابات کی تلاش میں چھوڑ دیا۔

جسٹس محمد ابراہیم خان نے لکھا کہ آسامیوں کو پُر نہ کرنے کی ممکنہ وجوہات کے بارے میں سوچ رہا ہوں، کوئی منطقی اور قائل کرنے والی وجہ ذہن میں نہیں آ سکی۔

آکر میں انہوں نے لکھا کہ میرے پاس ایسے رابطوں کی کمی ہے جو ایسی تقرریوں میں کردار ادا کرتے ہیں، ضمیر کی وجہ سے مجبور ہوں کہ اپنے ادارے کے سامنے حقائق قلم بند کروں، خط لکھنے کا مقصد براہ راست فیصلے کو چیلنج کرنا نہیں تھا، میں نے صرف تعصب، امتیاز اور طرفداری کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔

Comments

- Advertisement -