The news is by your side.

Advertisement

22 کروڑ آبادی کے لیے صرف 3ہزار ججز ہیں، چیف جسٹس آصف کھوسہ

اسلام آباد : چیف جسٹس آصف سعیدخان کھوسہ کا کہنا ہے کہ 22 کروڑ آبادی کے لیے صرف 3ہزارججزہیں ،  ججزآسامیاں پرکی جائیں تو زیرالتوا مقدمات  ایک دوسال میں ختم ہوجائیں گے، زیرالتوامقدمات کا طعنہ عدالتوں کودیاجاتاہےجبکہ قصوروارعدالتیں نہیں کوئی اورہے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آصف سعیدخان کھوسہ نے دیوانی مقدمے میں اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا ججزآسامیاں پرکی جائیں توزیرالتوامقدمات ایک دوسال میں ختم ہوجائیں گے، 21 سے 22کروڑکی آبادی کےلیےصرف 3ہزارججزہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالتوں میں اب زیرالتوامقدمات کی تعداد19 لاکھ ہوگئی ہے، گزشتہ ایک سال میں31 لاکھ مقدمات نمٹائےگئےہیں، گزشتہ ایک سال میں صرف سپریم کورٹ نے26 ہزارمقدمات نمٹائے۔

جسٹس آصف سعیدخان کھوسہ نے کہا امریکا کی سپریم کورٹ نےگزشتہ ایک سال میں 80سے90مقدمات نمٹائے، ججزکمی کےباوجودہمارےججززیرالتوامقدمات نمٹانےکی کوشش کررہےہیں۔

ان کا ریمارکس میں مزید کہنا تھا کہزیرالتوامقدمات کاطعنہ عدالتوں کودیاجاتاہے جبکہ زیرالتوامقدمات کی قصوروارعدالتیں نہیں کوئی اورہے۔

مزید پڑھیں : عرصہ دراز سےزیرالتوامقدمات کاقرض اتاروں گا، جسٹس آصف کھوسہ

یاد رہے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھانے سے قبل اپنا لائحہ عمل بتاتے ہوئے کہا تھا سوموٹو کا اختیاربہت کم استعمال کیا جائے گا، بطورچیف جسٹس انصاف کی فراہمی میں تعطل دورکرنےکی کوشش کروں گا، کہاجاتا ہے، فوجی عدالتوں میں جلدفیصلے ہوتے ہیں،ہم کوشش کریں گے سول عدالتوں میں بھی جلد فیصلے ہوں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا عرصہ دراز سےزیرالتوامقدمات کاقرض اتاروں گا، اس وقت عدالتوں میں انیس لاکھ کیسز زیرالتوا ہیں، تین ہزارججز انیس لاکھ مقدمات نہیں نمٹا سکتے۔ تاہم ماتحت عدلیہ میں زیر التوامقدمات کےجلدتصفیہ کی کوشش کی جائےگی۔ غیر ضروری التواروکنےکےلیے جدید آلات کااستعمال کیاجائےگا۔

انھوں نے مزید کہا تھا کہ عدلیہ نےکہاں دوسرے اداروں کے اختیارات میں مداخلت کی؟ مقننہ کاکام بھی صرف قانون سازی ہے ترقیاتی فنڈزدینانہیں، مقننہ کاکام ٹرانسفر پوسٹنگ بھی نہیں، فوج اورحساس اداروں کاسویلین معاملات میں دخل نہیں ہونا چاہیے، ہائی کورٹ کو اپنے اختیارات حدود کے اندر رہ کر استعمال کرنے چاہئیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں