تازہ ترین

فیض آباد دھرنا : انکوائری کمیشن نے فیض حمید کو کلین چٹ دے دی

پشاور : فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن کی رپورٹ...

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا

حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں...

سعودی وزیر خارجہ کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد پاکستان پہنچ گیا

اسلام آباد: سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان...

حکومت کل سے پٹرول مزید کتنا مہنگا کرنے جارہی ہے؟ عوام کے لئے بڑی خبر

راولپنڈی : پیٹرول کی قیمت میں اضافے کا امکان...

نئے قرض کیلئے مذاکرات، آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی

واشنگٹن : آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹیلینا...

ابصار عالم اور اسد طور حملہ کیسز میں غیرتسلی بخش کارکردگی، چیف جسٹس آئی جی اسلام آباد پر برہم

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے ابصار عالم،اسد طورحملہ کیس میں ناقص تفتیش پراظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کس قسم کے آئی جی اسلام آباد ہیں ؟انہیں ہٹا دینا چاہیے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں صحافیوں کو ایف آئی اے نوٹسز ،ہراساں کئے جانے کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

سپریم کورٹ پریس ایسوسی ایشن کی جانب سے بیرسٹر صلاح الدین اور اٹارنی جنرل پاکستان بھی سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔

مطیع اللہ جان اغوا ،ابصارعالم پر حملے کے کیسزمیں غیرتسلی بخش کارکردگی پر چیف جسٹس پاکستان نے آئی جی اسلام آباد پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کرائم ریکارڈموجودہےیہ ان ملزمان کاسراغ نہیں لگاسکے؟

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمے میں کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب یہ کس قسم کےآئی جی ہیں؟ آئی جی اسلام آبادکو ہٹا دیا جانا چاہیے، چار سال ہو گئے اور آپ کو کتنا وقت چاہیے؟

چیف جسٹس نے آئی جی اسلام آبادسے استفسار کیا کیا آپ کو چار صدیاں چاہئیں؟ آئی جی صاحب آپ آئے کیوں ہیں یہاں؟کیا آپ اپنا چہرہ دکھانےآئے ہیں؟ کسی صحافی کوگولی مار دی جاتی ہے کسی کی گھر میں جاکر پٹائی کی جاتی ہے۔

بیرسٹر صلاح الدین نے بتایا کہ اسد طور جیل میں ہیں، جس پر چیف جسٹس نے سوال کیا وہ کیوں جیل میں ہیں؟ تو بیرسٹر صلاح الدین کا کہنا تھا کہ اسد طور پر حکومتی افسران کا وقار مجروح کرنے کا الزام ہے۔

جسٹس عرفان سعادت نے استفسار کیا کیاایف آئی آرمیں ان افسران کا ذکر ہے جن کاوقارمجروح ہوا؟ بیرسٹر صلاح الدین نے بتایا کہ ایف آئی آر میں کسی افسر کا نام نہیں لکھا، چیف جسٹس نے ایف آئی اے افسرسے سول کیا کہ اسد طور پر جو دفعات لگائی گئیں وہ کیسے بنتی ہیں؟ کیا آپ کے ادارے میں کوئی پڑھالکھاہے؟ کوئی نہیں توپھراردو میں ترجمہ کرا لیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا ہم نے صحافیوں کے خلاف آپ کو کوئی شکایت کی تھی؟ججز کا نام لے کر آپ نے صحافیوں کو نوٹس بھیج دیئے؟ آپ ہمارا کندھا استعمال کر کے کام اپنا نکال رہے ہیں؟

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اسد طور کیخلاف مقدمہ میں سنگین نوعیت کی دفعات عائد کی گئی ہیں،حساس معلومات سمیت عائد دیگردفعات کااطلاق کیسےہوتاہے؟ انکوائری نوٹس میں لکھا گیا عدلیہ کیخلاف مہم پرطلب کیاجا رہا ہے، ایف آئی آر میں عدلیہ کیخلاف مہم کا ذکر تک نہیں، یہ توعدلیہ کے کندھے پر رکھ کر بندوق چلائی گئی ہے۔

بیرسٹر صلاح الدین نے دلائل میں کہا کہ صحافیوں کیخلاف مقدمات سے پہلے ہی جے آئی ٹی قائم کی گئی، جے آئی ٹی میں قانون نافذ کرنیوالےاداروں کے اہلکار شامل ہیں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جےآئی ٹی میں انکانمائندہ کیسے شامل ہوا ،قانون کانفاذ ان کادائرہ اختیارنہیں، کیوں نا ایف آئی اے کو توہین عدالت کا نوٹس دیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے کسی جج نے ایف آئی اےکوشکایت کی نہ رجسٹرار نے، سپریم کورٹ کا نام استعمال کرکے تاثر دیا گیا جیسے عدلیہ کے کہنےپر کارروائی ہوئی،اس طرح تو عوام میں عدلیہ کا امیج خراب ہوگا،ایف آئی اے کے متعلقہ افسر خودعدلیہ کی بدنامی کاباعث بن رہے ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے صحافیوں کیخلاف جے آئی ٹی میں ایجنسی کے لوگ کیوں شامل کیے گئے، کیا دباؤ ڈالنے کیلئے ایجنسی کے لوگ شامل کیے گئے، جب ایسے افسران شامل ہونگے تو پولیس کی چلے گی یاان لوگوں کی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے ،پولیس کو تحقیقات کرنا نہیں آتیں تو یہ ادارے پھربند کر دیں، پولیس رپورٹ میں کہا گیا کہ صحافی مطیع اللہ جان نےتعاون نہیں کیا، پولیس بتائے کس قسم کا تعاون نہیں کیا گیا، جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ پولیس رپورٹ درست نہیں تھی مزیداس پرعدالت کی معاونت کریں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اس کا مطلب ہے سینئر پولیس افسر کی رپورٹ غلط ہے کیا اس کوفارغ کر دیں، سارا ملبہ تفتیشی افسر پر ڈال دیا جاتا ہے اب ایسا نہیں ہوگا ، بڑے افسر کیخلاف کارروائی کرینگے تو سارا سسٹم ٹھیک ہوجائے گا۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہاسد طور کیس میں ایف آئی آر پر نظر ثانی کا معاملہ اٹارنی جنرل پر چھوڑ دیا گیا، اٹارنی جنرل صاحب ہم آرڈر کریں یا آپ گریس دکھائیں گے؟ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ دو دفعات ایف آئی آر میں نہیں بنتی تھیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پریس ایسوسی ایشن کےوکیل سے استفسار کیا آپ کواٹارنی جنرل پربھروسہ ہے؟ بیرسٹر صلاح الدین نے کہا مجھے اٹارنی جنرل پربھروسہ ہے، جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم زیادہ لمبی تاریخ نہیں رکھیں گےدیکھ لیتے ہیں یہ کیا کرتے ہیں۔

بیرسٹر صلاح الدین نے بتایا کہ ایف آئی اے پیکا کے تحت صحافیوں کیخلاف معاملات پرکارروائی کرہی نہیں سکتی، جس پر چیف جسٹس نے کہا آپ کی پٹیشن کےان نکات پر ہم انہیں نوٹس جاری کریں گے۔

Comments

- Advertisement -