The news is by your side.

Advertisement

” آئین اقلیتوں کو مذہبی آزادی فراہم کرتا ہے”

اسلام آباد:چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کا کہنا ہے کہ آئین کے تحت مذہب ،نسل، زبان اورعلاقائی بنیاد پر کسی شہری سے امتیازی سلوک کی اجازت نہیں ہے۔

تفصیلات کے مطابق انہوں نے یہ کلمات اسلام آباد میں اقلیتوں کے قومی دن سے متعلق ایک تقریب سے خطاب میں ادا کئے، چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ آئین پاکستان اقلیتوں کو مذہبی آزادی فراہم کرتا ہے، اسی بنا پر پاکستان میں اقلیتوں کےحقوق کو تحفظ حاصل ہے۔

عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس نے کہا کہ آئین کے تحت پاکستان کےتمام شہریوں کےیکساں حقوق ہیں، قومی اسمبلی، سینیٹ میں اقلیتوں کیلئے کوٹہ مختص ہے، سرکاری ملازمتوں میں اقلیتوں کےکوٹےکا مقصد انہیں ترقی فراہم کرنا ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس گلزار احمد نے رحیم یار خان مندر واقعے پر کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں کی عبادات گاہوں کا نقصان برداشت نہیں کیا جاسکتا۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے رحیم یار خان مندر حملے پر ازخود نوٹس بھی لیا تھا، سپریم کورٹ نےمندرحملےکےملزمان فوری گرفتارکرنےاور شرپسندی پراکسانےوالوں کیخلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں ہونے والے ازخود نوٹس پر مندربحالی کے اخراجات بھی ملزمان سے ہرصورت وصول کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ دندناتےپھرتےملزمان ہندوکمیونٹی کیلئےمسائل پیداکرسکتے، یقینی بنایاجائےآئندہ ایسے واقعات نہ ہوں۔

یاد رہے کہ پانچ اگست کو رحیم یار خان کے علاقے بھونگ شریف میں ایک مندر پر مشتعل افراد کے حملے اور شدید توڑ پھوڑ کی تھی، جس کے نتیجے میں علاقے میں سخت کشیدہ صورت حال پیدا ہوگئی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں