بدھ, مئی 22, 2024
اشتہار

ہم کچھ کرتے نہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ بس پتھر پھینکےجاؤ، چیف جسٹس برہم

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد: چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف کیس میں ریمارکس دیئے پہلے ہم پر بمباری کی جاتی ہے پھر پیش ہوکر کہتے ہیں کیس ہی نہیں چلانا ، ہم کچھ کرتے نہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ بس پتھرپھینکے جاؤ۔

تفصیلات کے مطابق صحافیوں کو ہراساں کرنے کےخلاف سپریم کورٹ میں ازخودنوٹس پر سماعت ہوئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے سماعت کی۔

چکوال سے تعلق رکھنے والے راجہ شیر بلال،ابرار احمد، ایم آصف ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے ، دوران سماعت چکوال سےتعلق رکھنےوالے درخواست گزار کمرہ عدالت میں درخواست دائرکرنے سے مکر گئے۔

- Advertisement -

سپریم کورٹ میں کوڈ آف کنڈکٹ تشکیل دینے کی 2022 میں دائر کی گئی تھی، درخواست گزاروں نے کہا کہ ہم نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر ہی نہیں کی۔

جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کسی نے آپ کے نام اور رہائشی پتے کیسے استعمال کئے، کیا بغیر اجازت درخواست دائر کرنیوالوں کیخلاف ایف آئی آر کٹوائیں گے تو ،درخواست گزار ایم آصف کا کہنا تھا کہ آپ کی سر پرستی ہوگی تو ہم ایف آئی آر کٹوا دیں گے۔

چیف جسٹس پاکستان نے سوال کیا ہم کیوں سرپرستی کریں؟ تو ایڈووکیٹ رفاق شاہ نے کہا کہ جس ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کے ذریعے درخواست دائر ہوئی انکا انتقال ہو چکا۔

چکوال سے تعلق رکھنے والے درخواست گزاروں کےوکیل حیدر وحید سے چیف جسٹس نے مکالمے میں کہا کہ آپ کو صرف چکوال والے کلائنٹ ہی کیوں ملتے ہیں، ٹی وی پر بیٹھ کرہمیں درس دیا جاتا ہے کہ عدالتوں کو کیسے چلنا چاہیے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ہم پر بمباری کی جاتی ہے پھر پیش ہوکر کہتے ہیں کیس ہی نہیں چلانا، ملک کو تباہ کرنے کیلئے ہر کوئی اپنا حصہ ڈال رہا ہے، سچ بولنے سے کیوں ڈرتے ہیں۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ وکیل کو اپنا ایڈووکیٹ آن ریکارڈ خود کرنے کا اختیار ہوتا ہے، کون سا مشہور آدمی چکوال میں بیٹھا ہواہے، گالیاں دینا ہوں تو ہر کوئی شروع ہوجاتا ہے، کوئی سچ نہیں بولتا۔

ان کا کہنا تھا کہ غلط خبر پر کوئی معافی تک نہیں مانگتا، کوئی غلط خبر پر یہ نہیں کہتا ہم سے غلطی ہو گئی ہے، غلطیاں تو جیسے صرف سپریم کورٹ کے جج ہی کرتے ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے بس فون اٹھایا اور صحافی بن گیا کہ ہمارےذرائع ہیں، کسی کے کوئی ذرائع نہیں، ہم کچھ کرتے نہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ بس پتھرپھینکےجاؤ، باہر کے ملک میں ایسا ہوتاتو ہتک عزت کیس میں جیبیں خالی ہوجاتیں۔

Comments

اہم ترین

راجہ محسن اعجاز
راجہ محسن اعجاز
راجہ محسن اعجاز اسلام آباد سے خارجہ اور سفارتی امور کی کوریج کرنے والے اے آر وائی نیوز کے خصوصی نمائندے ہیں

مزید خبریں