مارکٹائی کرکے ترقیاں لینے والے پولیس افسران کل عدالت میں پیش ہوں، چیف جسٹس
The news is by your side.

Advertisement

مارکٹائی کرکے ترقیاں لینے والے پولیس افسران کل عدالت میں پیش ہوں، چیف جسٹس

لاہور: پولیس افسران کی جانب سے اپنے دفتر میں عدالت لگا کر کاروبار کی تقسیم کے حوالے سے زبردستی معاہدہ کرانے کے معاملے کی سماعت میں چیف جسٹس نے کہا مارکٹائی کرکے ترقیاں لینے والے پولیس افسران کل عدالت میں پیش ہوں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پولیس افسران کی جانب سے اپنے دفتر میں عدالت لگا کر کاروبار کی تقسیم کے حوالے سے زبردستی معاہدہ کرانے کے معاملے کی سماعت ہوئی۔

ایڈیشنل آئی جی ابوبکر خدا بخش نے عدالت کو آگاہ کیا کہ امین وینس نے مرحوم شہری کے اسی کروڑ مالیت کے کاروبار کو چالیس کروڑ میں فروخت کرنے کا زبردستی معاہدہ کرایا۔

ابوبکر خدا بخش نے کہا امین وینس نے سی سی پی او آفس میں بیٹھ کر بھتہ خوری کی، قانون کے تحت عدالت لگانا پولیس کا کام نہیں اور سابق ایس ایس پی عمر ورک نے اس سارے عمل میں معاونت فراہم کی۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے قرار دیا کہ یہ وہی سی سی پی او ہے، جس کی زمینوں سے گزرنے والے نالے کا معاملہ بھی عدالت میں آیا تھا، سرکاری وکیل نے جواب دیا جی بدو نالے والے معاملے میں بھی سابق سی سی پی او سے متعلق عدالت نے حکم دیا تھا۔

نیب کے وکیل نے بتایا کہ سابق سی سی پی او امین وینس کا معاملہ نیب میں بھی ہے۔

چیف جسٹس نے قرار دیا کہ یہ تو سیدھا سادھا نیب کا معاملہ ہے، مارکٹائی کر کے ترقیاں لینے والے پولیس افسران کل عدالت میں پیش ہوں۔ مقدمہ بھی درج کرائیں گے اور معاملے کو منطقی انجام کی طرف بھی بڑھائیں گے۔

جسٹس ثاقب نثار نے سابق سی سی پی او امین وینس اور پولیس افسر عمر ورک کو ذاتی حیثیت سے اور آئی جی پنجاب کو بھی طلب کر لیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں