The news is by your side.

Advertisement

عافیہ صدیقی کی رہائی پرحکومت اور پاکستانی عدالتیں کچھ نہیں کرسکتیں، چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ عافیہ صدیقی زندہ ہیں،اس سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتے، ہم امریکی حکومت کوکیسے حکم دے سکتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، سماعت میں چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ معلوم ہوگیا عافیہ صدیقی زندہ ہیں،اس سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتے، ڈاکٹرعافیہ سے متعلق ریلیف لینا ہے تو امریکی عدالت کو درخواست دیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم امریکی حکومت کو کیسے حکم دے سکتے ہیں، عافیہ صدیقی کی رہائی پر حکومت اور پاکستانی عدالتیں کچھ نہیں کرسکتیں، ہم کسی خودمختارملک کوحکم نہیں دےسکتے۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نےعافیہ صدیقی کیس نمٹا دیا۔

یاد رہے اس سے قبل سماعت میں چیف جسٹس آف پاکستان نے ڈاکٹرعافیہ صدیقی کے زندہ ہونے یا نہ ہونے سے متعلق جواب تین دن کے اندر سرٹیفکیٹ جمع کرانے کی ہدایت کی تھی اور عافیہ صدیقی کو وطن واپس لانے کے لیے اٹارنی جنرل اور امریکہ میں پاکستانی سفارت خانے سے جواب طلب کرلیا تھا۔


مزید پڑھیں : قونصل جنرل عائشہ فاروقی کی ڈاکٹرعافیہ صدیقی سے جیل میں ملاقات


خیال رہے کہ عافیہ صدیقی کی موت کی افواہوں کے بعد ہیوسٹن میں پاکستانی قونصل جنرل عائشہ فاروقی نے فورٹ ورتھ ایف ایم سی کارزویل میڈیکل سینٹر کا سرکاری دورہ کیا اور ڈاکٹرعافیہ صدیقی سے دو گھنٹے طویل ملاقات کی تھی۔

قونصل جنرل عائشہ فاروقی کی14 ماہ میں ڈاکٹرعافیہ سے چوتھی ملاقات تھی۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کودوہزاردس میں امریکی عدالت نے افغانستان میں امریکی فوجیوں پرحملہ کرنے کے الزام میں چھیاسی سال قید کی سزاسنائی تھی، وہ ٹیکساس کی جیل میں قید ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں