The news is by your side.

Advertisement

گھومتے چاک پر نکھرتی ہوئی مٹی کی کہانی

چاک پر مٹی کے برتنوں کی تیاری ایک قدیم ہنر اور صناعی ہے۔

اس کا طریقہ تو سادہ ہے، لیکن اس میں مہارت اور مشق ضروری ہے۔ کیوں کہ مٹی مخصوص قالب میں ڈھالنا یا کوئی شکل دینا پڑتی ہے اور یہ عمل خاص مہارت اور چابک دستی کا تقاضا کرتا ہے۔

مٹی کے برتن بنانے کے لیے پہلے مٹی کو اچھی طرح ”سانا“ جاتا ہے اور پھر اسے چاک پر چڑھایا جاتا ہے۔ ہنر مند اس چاک کو پیروں یا موٹر کی مدد سے گھماتا ہے۔ اسی حرکت کی دوران ہاتھوں کی مدد سے برتن کو حسبِ منشا شکل دیتے ہوئے چاک سے اتار لیتا ہے۔

برتن کو دھوپ اور ہوا میں خشک ہونے کے لیے رکھ دیا جاتا ہے جس کے بعد اسے خوب صورت اور جاذبِ نظر بنانے کے لیے نقش و نگار بنائے جاتے ہیں۔ تاہم بعض برتنوں کو چاک پر ہی مخصوص لکیروں یا نقوش سے مزین کر لیا جاتا ہے اور بعد میں رنگا جاتا ہے۔

برتنوں کو چاک سے اتار کر سکھانے کے بعد بھٹی میں پکایا جاتا ہے۔ بھٹی میں پکانے کا عمل بھی سادہ ہے مگر بے حد احتیاط کا متقاضی ہے۔

چاک پر بنائے جانے والے مٹی کے برتنوں‌ میں‌ آٹا گوندھنے والی کنالیاں، ہانڈی، گھڑے، تیل کے دِیے، مرتبان، غذائی اجناس اور مسالا جات پیسنے کے لیے سل، حقے کی چِلم، ڈولا، پانی پینے کا کٹورا، مٹکے، صراحیاں، چھوڑنیں وغیرہ شامل ہیں۔ ان کے علاوہ مٹی کے گملے اور تزئین و آرائش کے لیے بھی مختلف اشیا تیار کی جاتی ہیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں