The news is by your side.

Advertisement

وزیراعلیٰ جام کمال کے استعفے سے متعلق ترجمان بلوچستان حکومت کی وضاحت

کوئٹہ: بلوچستان حکومت نے وزیراعلیٰ جام کمال کے استعفے سے متعلق خبر کو من گھڑت اور بے بنیاد قرار دے دیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق سیاسی حلقوں میں یہ بات گردش کررہی تھی کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے تحریک عدم اعتماد پیش ہونے سے پہلے اور اراکین کے تحفظات پر عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

دوسری جانب ترجمان حکومت بلوچستان لیاقت شاہوانی نے وزیراعلی بلوچستان کے استعفے سے متعلق خبر کو من گھڑت قرار دیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ اکثریت کھونے سے متعلق خبر بےبنیاد ہے۔

قبل ازیں اے آر وائی نیوز کے پروگرا الیونتھ آور میں میزبان وسیم بادامی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ ’اپوزیشن نے اسمبلی پر حملہ کرنے کے بعد سے حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کیا تھا‘۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی (بی اےپی) اتحادی پارٹی ہے، ہمارے اتحادیوں کےکچھ تحفظات ہیں، اسد بلوچ کا ممکن ہے کہ وہ اپوزیشن کا ساتھ دیں، بی اےپی کےکچھ ارکان نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے، ہماری نمبرز پورے کرنے کی بھرپور کوشش ہے۔

مزید پڑھیں: سنجرانی کمال کو بچانے کے لیے متحرک، اچانک کوئٹہ پہنچ گئے

جام کمال کا کہنا تھا کہ ’عبد القدوس بزنجوکچھ چیزوں پرجذباتی ہوجاتے ہیں، بلوچستان سےمتعلق چھوٹی بات بھی بڑی بن جاتی ہے، بلوچستان عوامی پارٹی بہت مختلف ہے کیونکہ ہمارے یہاں تحفظات کا کھل کر اظہار کیا جاتا ہے‘۔

جام کمال نے کہا کہ ہم پرامید ہیں کہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگی کیونکہ میں چالیس ارکان کے ذریعے وزیراعلیٰ منتخب ہوا، ہمارے نمبرز پورے ہوں گے۔

قبل ازیں وزیراعلیٰ بلوچستان نے تحریک انصاف کے پارلیمانی رہنما سردار یار محمد رند کی رہائش گاہ اپر اُن سے ملاقات کی۔

وزیراعلیٰ کے ہمراہ صوبائی وزرا اور اتحادی جماعتوں کے اراکین بھ یموجود تھے، ملاقات میں صوبےکی موجودہ سیاسی صورت حال پر تفصیلی گفتگو  ہوئی۔

یارمحمدرند نے پارلیمانی کمیٹی اراکین سے مشاورت کےلئے وقت مانگا اور وزیراعلیٰ کو واضح کیا کہ وزیراعظم سےحتمی منظوری کیلئے وقت دیا جائے۔ تحریک انصاف کے رہنما نے کل پی ٹی آئی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس کل طلب کرلیا، جس میں تمام اراکین سے مشاورت کی جائے گی اور اجلاس کی سفارشات وزیراعظم کے سامنے پیش کر کے حتمی منظوری لی جائے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں