The news is by your side.

Advertisement

بلوچستان محرومی اور نظر اندازی کا مزید متحمل نہیں ہو سکتا: وزیرِ اعلیٰ بلوچستان

کوئٹہ: وزیرِ اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کہا ہے کہ سی پیک میں گوادر کی وجہ سے صوبے کی اہمیت بڑھی، بلوچستان محرومی اور نظر اندازی کا مزید متحمل نہیں ہو سکتا۔

تفصیلات کے مطابق بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں سی پیک سے بلوچستان میں بے روزگاری اور پس ماندگی میں کمی آئے گی۔

گوادر پورٹ، حب کو منصوبے نکال دیں تو بلوچستان کا شیئر سی پیک میں ایک فی صد رہ جاتا ہے۔

جام کمال وزیر اعلیٰ بلوچستان

جام کمال نے کہا کہ ماضی میں سی پیک کے فیصلے کہیں اور ہوتے تھے، ہماری حکومت میں پہلی بار سی پیک سے متعلق اجلاس کوئٹہ میں ہوا۔

انھوں نے مزید کہا ’سی پیک منصوبے میں بلوچستان کا مالیاتی شیئر صرف ساڑھے 4 فی صد ہے، گوادر پورٹ، حب کو منصوبے نکال دیں تو بلوچستان کا شیئر ایک فی صد رہ جاتا ہے۔‘

وزیرِ اعلیٰ بلوچستان جام کمال کا کہنا تھا کہ انھوں نے جب حکومت سنبھالی تو معلوم ہوا کہ سی پیک میں مزید کسی منصوبے کی گنجائش نہیں، ماضی میں وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے کو کچھ نہیں ملا۔


یہ بھی پڑھیں:  سی پیک بلوچستان میں خوش حالی لائے گا:‌ وزیراعظم عمران خان


جام کمال نے اسمبلی اجلاس میں تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا ’فیڈرل پی ایس ڈی پی (پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام) میں بلوچستان کا شیئر صرف ساڑھے 3 فی صد ہے، این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کا حصہ 9 فی صد ہے، 5 سال میں 5 ہزار میں سے صرف 350 ارب روپے خرچ ہوئے۔‘

انھوں نے کہا کہ وفاقی ملازمتوں میں بھی ہمیشہ بلوچستان کو نظر انداز کیا گیا، بلوچستان محرومی اور نظر اندازی کا مزید متحمل نہیں ہو سکتا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں