سندھ میں پینے کا زہریلا پانی: وزیر اعلیٰ سندھ اور سابق سٹی ناظم مصطفیٰ کمال عدالت میں طلب -
The news is by your side.

Advertisement

سندھ میں پینے کا زہریلا پانی: وزیر اعلیٰ سندھ اور سابق سٹی ناظم مصطفیٰ کمال عدالت میں طلب

کراچی: سپریم کورٹ رجسٹری میں سندھ میں نکاسی آب کی ابتر صورتحال اور پانی کی آلودگی سے متعلق کیس میں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور سابق سٹی ناظم مصطفیٰ کمال کو عدالت میں طلب کرلیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ رجسٹری میں ماحولیاتی آلودگی، صوبہ سندھ میں نکاسی آب کی ابتر صورتحال اور پانی کی آلودگی سے متعلق مختلف درخواستوں کی سماعت ہوئی۔

عدالت کی طلبی پر وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور سابق سٹی ناظم مصطفیٰ کمال عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ 45 کروڑ گیلن فضلہ روز سمندر میں شامل کیا جا رہا ہے۔ کوئی ٹرینٹمنٹ پلانٹ کام نہیں کر رہا ہے۔ بتایا جائے کہ صنعتی فضلہ کہاں جارہا ہے؟

عدالت میں موجود چیف سیکریٹری سندھ نے جواب دیا کہ حکومت سندھ انسداد ماحولیاتی آلودگی کے منصوبوں پرکام کر رہی ہے جس پر عدالت نے ریمارکس دیا کہ آپ کے بیان سے لگ رہا ہے مسئلہ ہی حل ہوگیا۔ آپ کے بیانات وزیر اعلیٰ سندھ کو پھنسا رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے تنبیہہ کی کہ ہمیں سخت فیصلہ کرنے پر مجبور نہ کریں۔ انہوں نے پوچھا کہ ٹریٹمنٹ پلانٹ کب مکمل ہوں گے، تفصیلات پیش کریں۔

دوران سماعت چیف سیکریٹری نے نا اہلی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنی نااہلی پر نادم ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بنیادی انسانی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔ 23 دسمبر کو ہفتے کی چھٹی کے باوجود عدالت لگائیں گے۔


وزیر اعلیٰ اور مصطفیٰ کمال عدالت میں پیش

بعد ازاں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور سابق سٹی ناظم مصطفیٰ کمال عدالت میں پیش ہوئے۔ سپریم کورٹ میں وزیر اعلیٰ اور دیگر حکام کو نکاسی آب کی صورتحال سے متعلق دستاویزی فلم دکھائی گئی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پانی کی صورتحال میرے لیے بہت تکلیف دہ ہے، آپ کو بلانے کا مقصد طلبی نہیں بلکہ مسئلے کا حل تلاش کرنا ہے۔ انسانی فضلہ دانستہ طور پر پینے کے پانی میں شامل کیا جارہا ہے۔

چیف جسٹس نے وزیر اعلیٰ سندھ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ تیار ہیں ہم دونوں وہ پانی پیتے ہیں؟ یہ سندھ حکومت کی بنیادی ذمے داری ہے۔

انہوں نے کہا، ’مراد علی شاہ صاحب! ہم صاف پانی بھی مہیا نہیں کر رہے، اس زمین پر سب سے بڑی نعمت ہی پانی ہے‘۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ خواہش تھی کہ بلاول بھٹو یہاں ہوتے اور خود صورتحال دیکھتے۔ وہ دیکھیں لاڑکانہ اوردیگر شہروں کے لوگ کون سا پانی پی رہے ہیں۔ انہیں بھی معلوم ہوتا کہ لاڑکانہ کی کیا صورتحال ہے۔

دوسری جانب جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ آپ کو مسائل حل کرنے کے لیے منتخب کیا گیا، انتظامیہ کی ناکامی کے بعد لوگ عدالتوں کا رخ کرتے ہیں۔ مل کر کوئی حل نکالنا ہوگا تاکہ مسئلہ حل ہو۔

اپنی باری پر وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ جو ویڈیو دکھائی گئی وہ درخواست گزار کی بنائی ہوئی ہے۔ صورتحال اتنی سنگین نہیں، موقع ملا تو بہت جلد سپریم کورٹ میں ویڈیو پیش کروں گا۔

جواب میں چیف جسٹس نے کہا کہ شاہ صاحب! ویڈیو کو چھوڑیں مگر کمیشن کی رپورٹ ہی دیکھ لیں، کمیشن کی رپورٹ کی سنگینی کا جائزہ لیں۔ کمیشن کی رپورٹ مسئلے کے حل تک پہنچنے کا ذریعہ ہے۔ رپورٹ میں جو نشاندہی کی گئی اس سے مدد لیں۔

عدالت نے استفسار کیا کہ ہمیں حل بتا دیں، 1 ہفتہ، 10 دن ، مسائل کب حل ہوں گے؟ ہم سب مل کر کام کریں گے تو 6 ماہ میں مسئلہ حل ہوجائے گا۔

وزیر اعلیٰ نے جواب دیا کہ 6 ماہ میں یہ کام مکمل نہیں ہو سکتا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ مہلت مانگیں گے تو وقت بڑھا دیں گے، ’ہم اپنی اگلی نسل کے لیے کیا چھوڑ کر جا رہے ہیں‘؟

مراد علی شاہ نے کہا کہ یقین دلاتا ہوں آپ کو کام نظر آئے گا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کو لکھ کر دیں مسائل کب اور کیسے حل کریں گے، ’آپ نے لوگوں سے ووٹ لیے آپ ہی جوابدہ ہیں‘۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گندے پانی کی صفائی کے لیے ساڑھے 3 ارب چاہئیں۔

بعد ازاں عدالت نے سابق سٹی ناظم مصطفیٰ کمال کو روسٹرم پر طلب کیا۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ کراچی کو سندھ کے حصے کا 1.51 فیصد پانی دیا جارہا ہے۔ پانی کی فراہمی اور سیوریج وزیر اعلیٰ نہیں مقامی حکومتوں کا کام ہے۔ کے فور منصوبہ بھی پانی کی کمی کو پورا نہیں کر پائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ کراچی کی آبادی ڈھائی کروڑ سے زیادہ ہے۔ سنہ 2020 تک آبادی 3 کروڑ سے تجاوز کر جائے گی۔ کراچی کے شہریوں کو روز 1250 ملین گیلن پانی کی ضرورت ہے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ کراچی کو شہری حکومت سمیت 13 میونسپل ادارے چلاتے ہیں۔ کراچی میں حدود کا تنازعہ مسائل حل کرنے نہیں دیتا۔ 2007 میں کراچی کا لیگل ماسٹر پلان بنایا، اس سے پہلے نہیں تھا۔ ہمیں الاٹمنٹ کے اختیارات نہیں تھے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں