گزشتہ برس 23، رواں برس صرف 5 ٹارگٹ کلنگ کی وارداتیں ہوئیں: وزیر اعلیٰ سندھ -
The news is by your side.

Advertisement

گزشتہ برس 23، رواں برس صرف 5 ٹارگٹ کلنگ کی وارداتیں ہوئیں: وزیر اعلیٰ سندھ

کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ سب کو پتہ ہے اس شہر میں کس نے خونریزی کی، گزشتہ برس 23 ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ہوئے، رواں سال ٹارگٹ کلنگ کی صرف 5 وارداتیں ہوئیں۔

تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی کے اجلاس میں امن و امان سے متعلق تحریک التوا پر وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سنہ 2013 میں دہشت گردی کے 61 واقعات ہوئے تھے، اس سال دہشت گردی کا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔ ’اسٹریٹ کرائم کم ہوئے ہیں لیکن ہم مطمئن نہیں‘۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آپریشن میں جتنے پولیس افسران شریک تھے چن چن کر سب کو شہید کیا گیا، سنہ 2008 میں ہماری حکومت آئی، ایسے حالات تھے سکھر سے ہمیں قافلوں میں سفر کرنا پڑتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ سندھ نے دہشت گردی کے بہت واقعات دیکھے ہیں۔ سانحہ صفورہ، امجد صابری، خالد سومرو اور دیگر واقعات ہوئے۔ کوئی ایک کیس ایسا بھی واقعہ نہیں جسے پولیس نے حل نہیں کیا۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ سب کو پتہ ہے اس شہر میں کس نے خونریزی کی، سنہ 90 کی دہائی میں آپریشن میں ملوث پولیس افسران کو شہید کر دیا گیا، 90 کے آپریشن کے بعد صوبے کے حالات میں بہتری آئی۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس 23 ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ہوئے، رواں سال ٹارگٹ کلنگ کی صرف 5 وارداتیں ہوئیں۔ سیکیورٹی فورسز نے امن و امان کے لیے جانیں قربان کیں۔

وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ نگرانوں کے دور میں پولیس والوں کی قرعہ اندازی کی گئی، پولیس والوں کو پیپلز پارٹی کے خلاف ہدایات جاری کی گئیں۔ ’پولیس والوں کے نام قرعہ کر کے کہا گیا جاؤ پیپلز پارٹی کے لوگ توڑو‘۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں