The news is by your side.

نوجوان سیلاب متاثرین کا بوجھ کم کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں، آرمی چیف

روجھان: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ پاک فوج سیلاب متاثرین کے ساتھ ہے، نواجون متاثرین کا بوجھ کم کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ پنجاب کے ضلع راجن پور کے علاقے روجھان پہنچے جہاں انہوں نے سیلاب متاثرین کے کیمپس کا دورہ کیا، متاثرین سے گفتگو میں ان کے مسائل سنے اور فلڈ ریلیف کیمپ میں سہولیات کا جائزہ لیا۔

کیمپس میں متاثرین سے ملاقات میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاک فوج مشکل کی اس گھڑی میں متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے، فوج سیلاب متاثرین کی مشکلات پر قابو پانے میں بھرپور مدد کرے گی۔

اس موقع پر متاثرین نے داد رسی اور امداد پر آرمی چیف کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔ متاثرین کی طرف سے پاک فوج زندہ باد اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے گئے۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے امدادی کاموں میں مصروف جوانوں سے بھی خطاب کیا اور انہیں ہدایت کی کہ اس ذمہ داری کو نیک مقصد کے طور پر لیں اور سیلاب سے متاثرہ بھائیوں اور بہنوں کی مشکلات کم کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں۔

علاوہ ازیں آرمی چیف نے ڈی آئی خان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور متاثرین کے ساتھ ملاقات میں ان کے نقصانات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ متاثرین نے قدرتی آفات کے دوران بے مثال حوصلے کا مظاہرہ کیا۔

بعدازاں آرمی چیف نے ایف سی جنوبی کے پی کے جوانوں سے بھی بات چیت کی اور انہیں ہدایت کی کہ مصیبت کی اس گھڑی میں کے پی کے بہادر لوگوں کی بروقت مدد یقینی بنائیں۔

دو روز قبل آرمی چیف نے سوات کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے خواتین، بچوں، بزرگوں، سیاحوں و دیگر افراد سے ملاقات کی تھی۔

مزید پڑھیں: ’2010 کی سیلاب متاثرہ جگہوں پر دوبارہ تعمیرات کرنیوالوں کیخلاف کارروائی کی جائے‘

کانجو کینٹ ہیلی پیڈ پر میڈیا کے نمائندوں سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ 2010 کے سیلاب میں بھی سوات میں ایسی ہی تباہی ہوئی تھی، دوبارہ انہیں جگہوں پر تعمیرات کرنے کی اجازت دے کر غفلت کا مظاہرہ کیا گیا، ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ سیلاب کے شدید نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے سروے ابھی ہونا ہے، سروے ضلعی انتظامیہ اور صوبائی حکومتیں اور فوج مل کر کریں گے، اس وقت سب سے ضروری کالام روڈ کا کھلنا ہے، امید ہے کہ 6 سے 7 دن میں یہ روڈ کو کھول دیا جائے گا، یہاں پھنسے لوگوں کو نکال رہے ہیں، کالام میں اب بحران کی صورت حال نہیں ہے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا تھا کہ سیلاب زدگان کی امداد کے لیے اپیل پر بہت اچھا رسپانس ہے، مختلف فلاحی اداروں، سیاسی جماعتوں اور افواج پاکستان نے ریلیف سینٹر کھولے ہیں، این سی او سی کی طرز پر ہیڈ کوارٹر بنایا گیا ہے جہاں امداد کا ڈیٹا اکٹھا ہوگا، جہاں ضرورت ہوگی وہاں وزیر منصوبہ بندی ہیڈ کوارٹرز سے امداد بھجوائیں گے، لوگوں کا ریسپانس بہت اچھا آرہا ہے، کئی کئی ٹن راشن اکٹھا ہو رہا ہے، راشن کا نہیں اصل مسئلہ خیموں کا ہوگا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں