The news is by your side.

Advertisement

بلوچستان ہائی کورٹ کا ’ثاقبہ کاکڑخودکشی‘ کا مقدمہ درج کرنے کاحکم

کوئٹہ: بلوچستان ہائی کورٹ نے پرنسپل کی مبینہ انتقامی کاروائی کا شکارطالبہ کی خودکشی کا مقدمہ درج کرنے اور تحقیقات کےلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کا حکم دے دیا۔

بلوچستان کے علاقے قلعہ عبداللہ کی طالبہ ثاقبہ نے مبینہ طورپرکالج پرنسپل کی جانب سے داخلہ فارم نہ بھجوائے جانے کے سبب خودکشی کرلی تھی۔

معاملے کی تحقیقات اور کالج پرنسپل کےخلاف مقدمہ درج کرنے سے متعلق سماعت بلوچستان ہائی کورٹ میں ہوئی۔

جسٹس شکیل بلوچ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ثاقبہ کے وکیل کی درخواست پرمقدمہ کیوں درج نہیں کیا جارہا اورحکومت جوڈیشل کمیشن بنانے کے لئے کیوں خط نہیں لکھ رہی۔

عدالت نے فریقین کو سننےکے بعد پولیس کو فوری مقدمہ درج کرکےآئندہ روز مقدمے کی کاپی پیش کرنے کا حکم دیا جبکہ سیکریٹری داخلہ بلوچستان کو جوڈیشل کمیشن کے قیام کی درخواست بھیجنے کیلئے منگل تک کی مہلت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

یاد رہے کہ بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ کی رہائش پذیرایک 17 سالہ طالبہ نے کالج پرنسپل کی جانب سے داخلہ فارم انٹرمیڈیٹ بورڈ نہ بھجوائے جانے پرخودکشی کرلی تھی۔

تفصیلات کے مطابق سیکنڈ ایئرکی طالبہ ثاقبہ کاکڑکے اہلخانہ کا دعویٰ ہے کہ گورنمنٹ گرلزڈگری کالج، مسلم باغ کی پرنسپل عابدہ غوثیہ نے ثاقبہ اور 12 دیگرلڑکیوں کے داخلہ فارم انٹرمیڈیٹ بورڈ بھجوانے سے انکار کردیا تھا کیونکہ انھوں نے جون 2015 میں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے کالج میں اساتذہ کی کمی کے باعث کلاسز کی معطلی کے خلاف احتجاج کیا تھا۔

پرنسپل کی جانب سے امتیازی سلوک کا نشانہ بننے والی ثاقبہ کے اہل خانہ نے گزشتہ روز مقدمہ درج کرنے اورجوڈیشل انکوائری کے لئے احتجاج کیا تھا۔

اہلخانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ ثاقبہ نےکالج میں اساتذہ کی کمی پرکلاسزکی معطلی کے خلاف احتجاج کیا تھاجس کے سبب پرنسپل نےثاقبہ کوانتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں